Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

میر عبداللہ بہاری

1819 - 1882 | شیخ پورہ, بھارت

بہار کے ایک مصنف، عالم، متکلم اور مدرس تھے۔

بہار کے ایک مصنف، عالم، متکلم اور مدرس تھے۔

میر عبداللہ بہاری کا تعارف

اصلی نام : عبداللہ

پیدائش :شیخ پورہ, بہار

وفات : بہار, بھارت

رشتہ داروں : سید امجد حسین (پوتا)

مولانا میر عبداللہ بہاری بہار کے ایک مصنف، عالم، متکلم اور مدرس تھے، ان کا شمار انیسویں صدی کے بہار کے مسلم علما میں ہوتا ہے، اسلامی علوم، تصوف اور دینی ادب کی خدمات کے باعث انہیں نہایت احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

آپ کی پیدائش 1819ء میں بہار کے شیخ پورہ ضلع کے گاؤں پتھرائٹا میں ہوئی، آپ حضرت سید جمال الدین جاجنیری کی نسل سے تھے جن کا مزار شیخ پورہ کے جموارہ میں واقع ہے اور حضرت سید احمد جاجنیری واسطی کی اولاد میں سے تھے، جن کا مزار لکھی سرائے کے ندیاؤں میں ہے، آپ کے والد میر امجد علی جاجنیری ایک معزز زمیندار تھے جبکہ آپ کے دادا میر نیاز علی جاجنیری وسیع اراضی کے مالک تھے، یہ خاندان اپنے دینی وقار، علمی خدمات، تقویٰ اور سماجی مقام کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔

ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے فرنگی محل کا رخ کیا جو اس دور میں برصغیر کا ایک عظیم علمی مرکز شمار ہوتا تھا، وہاں آپ نے درسِ نظامی کے تحت تفسیر، حدیث، فقہ، علمِ کلام، عربی زبان و ادب، منطق، فلسفہ اور دیگر مروجہ اسلامی علوم کی تحصیل کی۔

آپ کے بھائی حضرت سخاوت حسین قادری بھی فرنگی محل کے فارغ التحصیل تھے، ایک دوسرے بھائی حضرت شجاعت حسین اپنی دینی غیرت اور رفاہی خدمات کے لیے مشہور ہوئے، انہوں نے متعدد جائدادیں وقف کیں جن میں پتھرائٹا گاؤں کی مسجد کی زمین بھی شامل ہے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد میر عبداللہ بہار واپس تشریف لائے اور تدریس، دینی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت میں مشغول ہوگئے، آپ کے علم، تقویٰ اور حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر دور دراز علاقوں سے طلبہ اور مریدین آپ سے فیض حاصل کرنے آنے لگے، آپ کے مریدین میں مرچا راج، جمئی کے راؤ عبدالرحمٰن خاں کا نام ملتا ہے جنہوں نے آپ کو اپنا مرشد تسلیم کیا اور عقیدت کے اظہار میں اپنا نام بھی تبدیل کر لیا۔

آپ کا نکاح بی بی نصیرن سے ہوا جو میر ارشاد حسین عرف میر گنگو کی صاحبزادی تھیں، میر گنگو اس زمانے میں مونگیر کے آنریری مجسٹریٹ تھے، ان سے آپ کے دو صاحبزادے ہوئے، حافظ میر عبدالعزیز (1863–1919) جن کا نکاح بی بی جمالن (جموارہ) سے ہوا اور میر محمد عبدالجبار۔

میر عبداللہ نہ صرف ایک بہترین مدرس اور روحانی پیشوا تھے بلکہ ایک کثیرالتصانیف مصنف بھی تھے، انہوں نے اسلامی عقائد، فقہ، اخلاق اور دینی تعلیم سے متعلق متعدد کتابیں اور رسائل تصنیف کیے، تاہم انہوں نے اپنی تصانیف کی اشاعت کے بجائے ان کے قلمی نسخے اپنے طلبہ میں تقسیم کرنا زیادہ پسند کیا، اسی وجہ سے ان کی بیشتر تصانیف وقت گزرنے کے ساتھ ناپید ہوگئیں اور آج دستیاب نہیں ہیں۔

آپ کا وصال 1882ء میں اورین، لکھی سرائے میں ہوا اور یہیں آپ آسودۂ خاک ہیں۔

اگرچہ آپ کی بیشتر علمی تصانیف زمانے کی نذر ہوچکی ہیں لیکن آپ کی علمی و روحانی میراث آج بھی آپ کے خانوادے کے ذریعے زندہ ہے، بہار کی علمی تاریخ میں آپ کا نام ایک ایسے جلیل القدر عالم اور بزرگ کے طور پر لیا جاتا ہے جن کی زندگی علم، تصوف، تدریس اور خدمتِ دین کا حسین امتزاج تھی۔

موضوعات

Recitation

بولیے