Sufinama
noImage

مبارک عظیم آبادی

1851 - 1923 | پٹنہ, بھارت

عظیم آباد کے مشہور رئیس اور وحید الہ آبادی کے شاگرد رشید

عظیم آباد کے مشہور رئیس اور وحید الہ آبادی کے شاگرد رشید

مبارک عظیم آبادی کا تعارف

تخلص : 'مبارک'

اصلی نام : مبارک حسین مبارک

پیدائش :پٹنہ, بہار

وفات : بہار, بھارت

مبارک حسین مبارک عظیم آبادی سید شاہ تبارک حسین کاکوی ابن شاہ تیم اللہ کاکوی کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ اپنی سخاوت، سیر چشمی، مروت اور راست گفتاری میں اپنی نظیر آپ تھے۔ رئیسانہ زندگی بسر کی اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور داد و دہش میں بے انتہا دولت صرف کی۔ رؤسائے عظیم آباد میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ اپنے سخی اور جواد ہونے کا اپنے ہی ایک شعر میں اشارہ کیا ہے۔ گھر بھی لُٹ جائے تو نہیں پروا کچھ عجب حال ہے سخی کا حال آپ کو شاعری سے بھی بڑی دلچسپی تھی۔ طبیعت رسا پائی تھی۔ وحید الہ آبادی سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ کلام بہت پاکیزہ اور دلکش ہوتا تھا۔ فارسی تحریر بھی بامحاورہ اور دلچسپ ہوتی تھی۔ رئیسانہ شان و شکوہ کے ساتھ حد درجہ منکسر المزاج اور نیک طبع تھے۔ آپ کی پیدائش 11 صفر المظفر 1269ھ کو شائستہ آباد میں ہوئی۔ تاریخی نام خیرات محبوب ہے۔ آپ کا زیادہ تر قیام لودی کٹرہ، پٹنہ میں رہتا۔ اپنے وطن اصلی کاکو سے ان کو بڑی الفت ومحبت تھی۔ کاکو کا کوئی بھی باشندہ ملنے جاتا تو بڑے خلوص محبت سے پیش آتے اور والہانہ طور پر اس سے سرگرم گفتگو رہتے۔ آپ کو شعر و شاعری سے بڑا شغف تھا۔ طبیعت رسا پائ تھی۔ کلام مختصر مگر بڑا بامزہ ہوتا۔ وحید الہ آبادی کی اصلاح سے اور بھی جلا پڑ جاتی تھی۔ افسوس ہے کہ کلام شائع نہ ہوسکا اور ضائع ہوگیا۔ آخر میں بینائی سے محروم ہوگئے تھے۔ مبارک حسین مبارک شعر و شاعری کی محافل بھی منعقد کیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ تو دوسروں کی محفل میں شریک ہوکر رنگ و نور سے بھر دیتے۔ ابتدا میں وحید الہ آبادی سے اصلاح سخن لیتے رہے پھر حضرت شاہ اکبر داناپوری سے اپنے کلام پراصلاح لی۔ گلدستہ بہار میں مبارک کے کلام بھی خوب چھپا کرتے تھے۔ مبارک حسین مبارک کی اصرار پر حضرت شاہ اکبر داناپوری نے ’’کتاب خدا کی قدرت‘‘ نام کتاب تحریر فرمائی جو پٹنہ سے 1305ھ میں شائع ہوئی تھی۔ مبارک حسین مبارک نے 19 جمادی الثانی 1334ھ کو عظیم آباد میں انتقال کیا اور حضرت شہاب الدین پیر جگجوت کے آستانہ کے بائیں پہلو میں مدفون ہوئے۔

موضوعات