مفتی سعداللہ آشفتہؔ کا تعارف
مولانا مفتی محمد سعداللہ خلفِ ارشد مولوی محمد نظام الدین مرادآبادی 17 رجب 1219ھ مطابق 22 اکتوبر 1804ء کو مرادآباد میں پیدا ہوئے، کم سنی ہی میں والد کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ان کے بڑے بھائی نے سنبھالی، ابتدائی تعلیم آپ نے رامپور میں حاصل کی پھر مزید علمی تشنگی بجھانے کے لیے نجیب آباد کا رخ کیا، جہاں آپ نے عبد الرحمٰن کوہستانی کی شاگردی اختیار کی، اس کے بعد دہلی تشریف لے گئے اور وہاں مولانا شیر محمد قندھاری، محمد حیات لاہوری اور مولوی صدرالدین صدر اعلیٰ جیسے نامور اساتذہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل کی، بعد ازاں لکھنؤ میں قیام کے دوران مولانا اشرف لکھنوی، مفتی محمد اسمٰعیل مرادآبادی، مرزا احسن اور مفتی ظہوراللہ جیسے جلیل القدر اہلِ علم سے اپنے درسی مراحل کی تکمیل کی، تعلیم سے فراغت کے بعد آپ مدرسہ عالیہ میں منصبِ تدریس پر فائز ہوئے، جہاں آپ نے ایک عرصے تک علمی خدمات انجام دیں، تاہم ایک نہایت حساس فقہی مسئلے پر آپ کے فتویٰ کے باعث ایک تنازع کھڑا ہوگیا، جس کے نتیجے میں آپ کو اپنی جان کے تحفظ کے پیشِ نظر لکھنؤ چھوڑنا پڑا، آپ کا انتقال 14 رمضان 1294ھ مطابق 22 دسمبر 1877ء کو ہوا، مولانا مفتی محمد سعداللہ ایک جید عالم، صاحبِ تصنیف شخصیت اور منطق و فلسفہ کے ماہر تھے، علومِ متنوعہ پر ان کی گہری دسترس تھی اور جامعیت میں وہ اپنے عہد کے ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے، عربی اور فارسی میں بھی شعر کہتے تھے، جس سے ان کی ادبی ذوق کی عکاسی ہوتی ہے۔