Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

محمد علی خان اثرؔ

1892 - 1963 | رام پور, بھارت

فارسی و اردو کے صاحبِ طرز شاعر، نثر نگار اور جلیل مانکپوری و آرزو لکھنوی کے شاگرد تھے۔

فارسی و اردو کے صاحبِ طرز شاعر، نثر نگار اور جلیل مانکپوری و آرزو لکھنوی کے شاگرد تھے۔

محمد علی خان اثرؔ کا تعارف

تخلص : 'اثر'

اصلی نام : محمد علی خان

پیدائش :رام پور, اتر پردیش

وفات : 20 Jan 1963

اثر محمد علی خاں کے والد کا نام محمد شفیع تھا جو مجذوب تخلص کرتے تھے، اثر محمد علی خاں کی ولادت 1892ء میں ریاست رامپور کے محلہ گھیر میاں خاں میں ہوئی، ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے دادا اور والد سے حاصل کی، جبکہ باقاعدہ تعلیمی مراحل مدرسہ عالیہ میں مکمل کیے، اس دوران مولانا عبدالرزاق طالب آپ کے خصوصی استاد رہے، جن سے آپ نے فارسی زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی، 1910ء میں آپ ریاستِ رامپور کی ملازمت سے وابستہ ہوئے، ملازمت کے سلسلے میں آپ کو ٹونڈلا اور خیرپور (سندھ) میں بھی قیام کرنا پڑا، جہاں آپ نے اپنی عملی زندگی کے مختلف ادوار گزارے، شاعری کا ذوق آپ میں کم عمری ہی سے پیدا ہو گیا تھا، چنانچہ پندرہ برس کی عمر میں آپ نے باقاعدہ سخن گوئی کا آغاز کیا، ابتدا میں آپ جلیل مانکپوری کے شاگرد ہوئے اور بعد ازاں آرزو لکھنوی سے بھی فیضِ سخن حاصل کیا، اثر محمد علی خاں نہ صرف ایک اچھے شاعر تھے بلکہ ایک عمدہ نثر نگار بھی تھے، ان کی تصانیف میں ’’ارمغانِ پارس‘‘، ’’انشائے جدید‘‘ اور ’’ذخیرۂ معلومات‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان کے صاحبزادے شوق اثر نے 2011ء میں ان کے منتخب کلام کو ’’لالہ زارِ سخن‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے، فارسی زبان پر بھی انہیں عبور حاصل تھا اور وہ اس زبان میں بھی شعر کہتے تھے، جس سے ان کی علمی وسعت اور ادبی ذوق کی ہمہ گیری کا اندازہ ہوتا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے