محمد امیر شاہ کا تعارف
سید محمد امیر شاہ خلفِ سید محمد جہاں گیر شاہ ایک صاحبِ علم و صوفی تھے، آپ کو فارسی کے ممتاز اساتذہ خصوصاً عنبر شاہ خاں سے تلمذ حاصل تھا، آپ کی ولادت رامپور میں ملا فقیر اخوند کے مزار کے متصل محلے میں ہوئی، روحانی طور پر آپ میاں غلام شاہ کے مرید تھے اور ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے مراتبِ کمال حاصل کیے، ابتدا میں آپ نے اپنے پیر و مرشد کی خانقاہ میں قیام کیا، بعد ازاں اپنے خلیفہ و مریدِ خاص اعظم الدین کے مکان پر کٹرہ جلال الدین میں سکونت اختیار کی، علمی و ادبی میدان میں بھی آپ نے نمایاں مقام حاصل کیا اور عنبر شاہ عنبر و آشفتہ جیسے اساتذہ سے فیض پایا، آپ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں قادرالکلام تھے، اگرچہ آپ کے دو دیوان ضائع ہوگئے، تاہم آپ کے شاگردِ رشید امیر مینائی نے ایک فارسی دیوان کا ذکر کیا ہے، جس کے اختتام پر اردو کلام بھی شامل تھا، یہ امر آپ کی دو لسانی شعری مہارت کا بین ثبوت ہے، تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی آپ کی خدمات قابلِ ذکر ہیں، آپ کی معروف تصانیف میں ’’دعوتِ دعائے سیفی‘‘، ’’رسالۂ کشفیہ‘‘ اور ایک ضخیم کتاب ’’تعلیم الخواص‘‘ شامل ہیں جو تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور تصوف و سلوک کے دقیق مسائل پر مبنی ہے، آپ کا انتقال 25 صفر 1290ھ کو ہوا۔