محمد حیات خان کا تعارف
مولوی محمد حیات خاں ولد سید احمد خاں قبیلۂ افغانی قدرزئی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی والدہ کمال زئی خاندان سے تھیں، جبکہ نانی سیدالنسل تھیں، آپ کی ولادت 1199 ہجری میں رامپور کے محلہ لال مسجد میں ہوئی اور “کوکبِ رخشان” آپ کی تاریخِ ولادت قرار دی جاتی ہے، آپ نے علمِ حدیث اور تفسیر کی تعلیم مفتی محمد شرف الدین سے حاصل کی، جبکہ صرف و نحو مولوی عبدالرحمٰن پنجابی سے پڑھی، آپ علمی و دینی اعتبار سے بلند پایہ شخصیت کے حامل تھے، عبدالحق خاں حقی اور صفا آپ کے نواسے تھے، جن کے بیان کے مطابق آپ سحاب خاں کے مرید تھے، مولوی محمد حیات خاں نہایت دیندار، متقی اور عبادت گزار بزرگ تھے، آپ آخر شب تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کرتے اور میلاد کی محفلوں میں کثرت سے شرکت فرماتے تھے، شعر و شاعری سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے، خصوصاً نعت گوئی میں آپ کو خاص ذوق حاصل تھا، اسی شوق کے تحت آپ دہلی گئے اور وہاں معروف شاعر ذوق کی شاگردی اختیار کی، ابتدا میں گویا تخلص اختیار کیا مگر بعد میں حیات تخلص سے شعر کہنے لگے، آپ نے اردو اور فارسی میں نعتیہ کلام تصنیف کیا، جو دو جلدوں میں مرتب کیا گیا، آپ کی وفات کے سن میں اختلاف پایا جاتا ہے، انتخابِ یادگار میں 20 رمضان 1287 ہجری درج ہے، جبکہ تذکرۂ کاملانِ رامپور میں 20 رمضان 1281 ہجری، بروز جمعرات آپ کا یومِ وصال بیان کیا گیا ہے۔