Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

مجتہدالدین عیش

1870 - 1955 | بدایوں, بھارت

امیر مینائی کے رنگِ سخن کو وقار اور پاکیزگی کے ساتھ آگے بڑھانے والی شخصیت۔

امیر مینائی کے رنگِ سخن کو وقار اور پاکیزگی کے ساتھ آگے بڑھانے والی شخصیت۔

مجتہدالدین عیش کا تعارف

تخلص : 'عیش'

اصلی نام : مجتہدالدین

پیدائش : 03 Nov 1870 | بدایوں, اتر پردیش

وفات : 03 Feb 1955 | اتر پردیش, بھارت

مجتہدالدین ولد محمد اشجع الدین، محلہ سوتھا، بدایوں کے ساکن اور خاندانِ متولیان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 8 شعبان 1287ھ مطابق 3 نومبر 1870ء کو بدایوں میں ہوئی، ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے عربی و فارسی میں اعلیٰ درجہ کی تحصیل حاصل کی اور پھر ملازمت اختیار کی، اپنی قابلیت اور محنت کے باعث جلد ہی ترقی پا کر منصبِ قانون گو تک پہنچے، تاہم بعد ازاں قبل از وقت پنشن لے لی، آپ نے 10 جمادی الثانی 1373ھ مطابق 3 فروری 1955ء کو وفات پائی، شاعری کا آغاز 1885ء میں کیا اور آپ امیر مینائی کے شاگرد ہوئے، مذہب سے گہری وابستگی کے باعث آپ کا کلام ابتذال اور عریانیت سے بڑی حد تک پاک ہے، اس کے باوجود تذکیر و تانیث اور دیگر لسانی و فنی معاملات میں آپ نے لکھنوی شعرا کی پیروی کی، ادبی سرمایہ کے اعتبار سے آپ نہایت زرخیز شاعر تھے، آپ کے چھ دواوین، پانچ مثنویاں، پانچ مسدس، دو مراثی، متعدد قصائد، تضمینات اور رباعیات یادگار ہیں، نعت گوئی میں بھی آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا اور اس سلسلے میں آپ کا نعتیہ قصیدہ خصوصیت کے ساتھ شہرت رکھتا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے