مختار بدایونی کا تعارف
مختار احمد ولد حکیم ظہیر احمد ظہیری، محلہ فرشوری ٹولہ، بدایوں کے ساکن اور نسباً شیوخِ صدیقی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 17 جولائی 1897ء کو بدایوں میں ہوئی، ابتدائی دینی تعلیم آپ نے حکیم اعجاز احمد معجز سہسوانی اور مولانا حبیب الرحمٰن قادری سے حاصل کی، بعد ازاں طب کا امتحان پاس کیا اور اسی پیشے کو ذریعۂ معاش بنایا، آپ نے 1917ء میں شاعری کا آغاز کیا اور 1918ء میں فانی بدایونی سے شرفِ تلمذ حاصل کرنے کے بعد ان سے اصلاحِ سخن لیتے رہے، 1918ء سے 1980ء تک آپ نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی، تاہم 1969ء میں حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد آپ کی توجہ نعت و منقبت کی طرف مرکوز ہو گئی اور 1970ء سے 1984ء تک کا عرصہ اسی صنف کے لیے مخصوص رہا، آپ کا انتقال 4 اکتوبر 1984ء کو ہوا، آپ کی تصانیف میں معالجاتِ ظہیری (1946ء)، التجائیں (1951ء)، فانی کے مقطعے (1963ء)، تاریخِ بزرگانِ دہلی (1972ء)، تذکرۂ فانی (1976ء)، نظام الدین اؤلیا (1977ء)، اردو کی فریاد (1979ء) اور جبرِ مختار (بعد از مرگ، 1987ء) شامل ہیں، نعتیہ کلام کا ایک مجموعہ عقیدت کے گجرے 1977ء میں شائع ہوچکا ہے۔