Font by Mehr Nastaliq Web
Munawwar Badayuni's Photo'

منور بدایونی

1908 - 1984 | بدایوں, بھارت

نعت گو شاعر جنہوں نے حجِ بیت اللہ کے بعد اپنی شاعری کو نعت و منقبت کے لیے مخصوص کر دیا۔

نعت گو شاعر جنہوں نے حجِ بیت اللہ کے بعد اپنی شاعری کو نعت و منقبت کے لیے مخصوص کر دیا۔

منور بدایونی کا تعارف

تخلص : 'منور'

اصلی نام : ثقلین احمد

پیدائش : 02 Dec 1908 | بدایوں, اتر پردیش

وفات : 06 Apr 1984 | سندھ, پاکستان

رشتہ داروں : محشر بدایونی (بھائی)

ثقلین احمد ولد حسنین احمد، محلہ سوتھا، بدایوں کے ساکن اور خاندانِ متولیان کے فرد تھے، آپ کی ولادت 2 دسمبر 1908ء کو ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی، 1928ء میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میونسپلٹی، بدایوں میں ملازمت اختیار کی، 1948ء میں پاکستان منتقل ہوگئے، جہاں کچھ عرصہ میونسپل کارپوریشن میں خدمات انجام دیں مگر بعد ازاں استعفا دے دیا، شاعری کا شوق آپ کو زمانۂ طالب علمی ہی سے تھا، گھر کا ماحول ادبی تھا، والد، پھوپھا عیش بدایونی اور خاندان کے دیگر شعرا کی محفلوں میں شرکت سے آپ کا ذوقِ سخن پروان چڑھا، ابتدا میں آپ اپنے پھوپھا عیش بدایونی سے اصلاح لیتے رہے، بعد ازاں جامی بدایونی سے باقاعدہ تلمذ اختیار کیا، ابتدائی دور میں آپ بہاریہ شاعری کی طرف مائل تھے، تاہم حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد آپ نے خود کو نعت و مناقب تک محدود کر لیا، آپ کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں (1963ء)، منور نغمات (1970ء) اور منور غزلیں (1970ء) شامل ہیں، نعتیہ کلام میں خمسے، غزلیات، مناجات اور سلام وغیرہ بھی شامل ہیں جو آپ کے مذہبی ذوق کی عمدہ عکاسی کرتے ہیں، آپ کا انتقال 9 مئی 1984ء کو ہوا اور کراچی میں مدفون ہوئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے