منشی مول چند کا تعارف
مول چند منشی دہلی کے باشندے اور شاہ نصیر دہلوی کے تلامذہ میں شمار ہوتے تھے، شاہ عالم ثانی کے دربار سے وابستہ رہے اور وہاں ایک جلیل القدر منصب پر فائز تھے، صاحبِ دیوان شاعر تھے اور فردوسی کی شاہنامہ اور شمشیرِ فانی کو اردو نظم میں منتقل کیا، امام بخش صہبائی نے اپنی کتاب انتخابِ دواوین میں ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے شاہنامہ کے اکثر قصص کو ریختہ میں منظوم کیا تھا، صہبائی نے بھی شاہنامۂ مول چند سے ایک انتخاب پیش کیا ہے، جس کے ابتدائی چھ اشعار حمدیہ ہیں، مول چند منشی نے 1832ء میں وفات پائی اور اپنے پیچھے اردو شاعری کی ایک قابلِ ذکر یادگار چھوڑ گئے۔