Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

منشی مول چند

- 1832 | دہلی, بھارت

دہلی کے صاحبِ دیوان شاعر اور شاہ نصیر دہلوی کے شاگرد تھے، شاہ عالم ثانی کے دربار سے وابستہ رہے اور شاہنامہ و شمشیرِ فانی کو اردو نظم میں منتقل کرنے کے ساتھ حمدیہ شاعری بھی کی۔

دہلی کے صاحبِ دیوان شاعر اور شاہ نصیر دہلوی کے شاگرد تھے، شاہ عالم ثانی کے دربار سے وابستہ رہے اور شاہنامہ و شمشیرِ فانی کو اردو نظم میں منتقل کرنے کے ساتھ حمدیہ شاعری بھی کی۔

منشی مول چند کا تعارف

اصلی نام : مول چند

پیدائش :دہلی

رشتہ داروں : شاہ نصیر (مرشد)

مول چند منشی دہلی کے باشندے اور شاہ نصیر دہلوی کے تلامذہ میں شمار ہوتے تھے، شاہ عالم ثانی کے دربار سے وابستہ رہے اور وہاں ایک جلیل القدر منصب پر فائز تھے، صاحبِ دیوان شاعر تھے اور فردوسی کی شاہنامہ اور شمشیرِ فانی کو اردو نظم میں منتقل کیا، امام بخش صہبائی نے اپنی کتاب انتخابِ دواوین میں ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے شاہنامہ کے اکثر قصص کو ریختہ میں منظوم کیا تھا، صہبائی نے بھی شاہنامۂ مول چند سے ایک انتخاب پیش کیا ہے، جس کے ابتدائی چھ اشعار حمدیہ ہیں، مول چند منشی نے 1832ء میں وفات پائی اور اپنے پیچھے اردو شاعری کی ایک قابلِ ذکر یادگار چھوڑ گئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے