مضطر لکھنوی کا تعارف
مضطر لکھنوی جن کا اصل نام کرپا دیال تھا اور جو عموماً لالہ کنور سین کے نام سے معروف تھے، کائستھوں کی سکسینہ شاخ سے تعلق رکھتے تھے اور لکھنؤ کے باشندے تھے، ان کا خاندان علم و فضل اور انتظامی خدمات کے حوالے سے ممتاز تھا، ان کے دادا چوڑامن داس دہلی میں شاہی خزانے کے دیوان و پیش کار اور پانچ ہزاری منصب دار رہے تھے، جبکہ والد بینی پرشاد اور چچا بھوانی پرشاد لکھنؤ میں دیوان کے منصب پر فائز رہے، مضطر کی تعلیم و تربیت لکھنؤ میں ہوئی، مصحفی نے 1213ء میں ان کی عمر 25 سال بیان کی ہے، جس کے مطابق ان کا سنِ پیدائش 1188ء قرار پاتا ہے، 1208ء کے آس پاس وہ اپنے والد کے ہمراہ محالات چاندپورہ وغیرہ، علاقۂ چکلہ بریلی کی فوج داری پر مامور ہوئے، بعد ازاں مظفر نگر کے تحصیل دار مقرر ہوئے اور پھر بلند شہر اور ڈبائی منتقل کیے گئے، مضطر عربی زبان سے بھی واقف تھے اور علمِ حکمت میں دسترس رکھتے تھے، سیاق و انشا اور مضمون آفرینی میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے، طبیعت میں خدا ترسی اور خدا پرستی نمایاں تھی اور علما، شعرا، فصحا اور فضلا کی قدر دانی ان کے مزاج کا حصہ تھی، خوش رو اور خوش خو ہونے کے ساتھ فارسی اور اردو، دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے، بعد ازاں مصحفی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی شاگردی اختیار کی، غالب قیاس یہی ہے کہ 1264ء سے قبل ان کا انتقال ہوا، مضطر کی معرکۃ الآرا تصنیف ریاض الشہدا ہے جس کا تاریخی نام فسانۂ غم 1236ء ہے، یہ 1425 اشعار پر مشتمل ایک طویل قصیدہ ہے جس میں واقعۂ کربلا کی تفصیلات نہایت درد انگیز انداز میں بیان ہوئی ہیں، قصیدے میں 38 اشعار کی تشبیب کے بعد حضرت محمد، حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت علی اصغر اور حضرت زین العابدین سے حضرت عسکری تک کی شہادتوں کا ذکر ہوا ہے، جبکہ اختتام حضرت مہدی کی غیبت کے بیان پر ہوتا ہے۔