نام دیورشی پٹیالوی کا تعارف
اصلی نام : نام دیورشی
پیدائش : 20 Jan 1917 | ہوشیار پور, پنجاب
نام دیو رشی پٹیالوی فرزندِ رام چند مسرا 26 جنوری 1917ء کو بستی کلاں، ہوشیارپور میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی اور بی اے تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد پٹیالہ میں ملازمت اختیار کی، یہیں ان کے ادبی ذوق کو جلا ملی اور وہ شعر و ادب کی مختلف سرگرمیوں میں بھرپور طور پر شریک ہونے لگے، بعد ازاں وہ لٹریری لیگ کے سکریٹری منتخب ہوئے اور اس ادارے کے ذریعے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں نمایاں خدمات انجام دیں، شاعری کے ابتدائی دور میں انہوں نے نسیم نور فائیلی سے اصلاح لی لیکن بعد میں جوش ملسیانی کی شاگردی اختیار کی، جس کے نتیجے میں ان کے کلام میں مزید فنی پختگی اور فکری وسعت پیدا ہوئی، 1957ء سے 1961ء تک وہ بزمِ ادب، چنڈی گڑھ کے جنرل سکریٹری رہے، اس کے علاوہ انجمن ترقیِ اردو (ہند) کی پنجاب شاخ اور پنجاب اردو وکاس بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، ان کی تصانیف میں "جائزے"، "آتشِ نغمہ"، "ریگِ رواں"، "لہو پکارے گا آستیں کا"، "پرتوِ جمہور"، "ریاضِ نسیم"، "پھول ان کی مسکانوں کے"، "روشنی کیسی ہے"، "چھڑ گئی ہو بات ان کی" اور "شفق رنگِ آرزو" شامل ہیں، ان میں سے متعدد شعری مجموعوں کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی کی جانب سے انعامات و اعزازات سے نوازا گیا، نام دیو رشی پٹیالوی نے نعتیہ شاعری بھی کی، جس میں عشقِ رسولِ اکرم، اخلاصِ عقیدت اور حسنِ بیان نمایاں نظر آتے ہیں، ان کا نعتیہ کلام سادگی، سوز اور والہانہ محبت کا دل آویز نمونہ ہے۔