نجم الدین ثاقب کا تعارف
نجم الدین احمد ولد جمیل احمد، محلہ سوتھا، بدایوں کے معزز عباسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جن کا سلسلۂ نسب ہارون الرشید تک پہنچتا ہے، آپ کی ولادت 11 ربیع الاول 1285ھ مطابق 2 جولائی 1868ء کو بدایوں میں ہوئی، ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل مدرسہ قادریہ، بدایوں میں کی، ابتدائے شعور ہی سے آپ کو شعر و سخن سے غیر معمولی شغف تھا، 1886ء میں آپ گوالیار تشریف لے گئے، جہاں اپنے ماموں غلام غوث وجد بدایونی کے مشورے سے چند غزلیں داغ دہلوی کی خدمت میں ارسال کیں، جس کے نتیجے میں آپ کو ان کے تلامذہ میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا، بعد ازاں آپ نے ظہیر دہلوی سے بھی تلمذ اختیار کیا، جس سے آپ کے ذوقِ سخن کو مزید جلا ملی، نجم الدین احمد ایک کثیراللسان شاعر تھے اور اردو، فارسی، عربی اور ہندی چاروں زبانوں میں طبع آزمائی کی، تاہم افسوس کہ ان کا بیشتر شعری سرمایہ ضائع ہوگیا اور صرف چند تخلیقات ہی محفوظ رہ سکیں، ان کے معروف قصائد میں چراغِ مدعا اور ریاضِ شاداب خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، اگرچہ یہ دونوں اب نایاب ہیں، یہ قصائد 1901ء میں وکٹوریہ پریس، بدایوں سے شائع ہوئے تھے، چراغِ مدعا ایک بلند پایہ نعتیہ قصیدہ ہے جسے محسن کاکوروی کے شہرۂ آفاق نعتیہ قصیدہ مدیحِ خیرالمرسلین کا گویا جواب قرار دیا جاسکتا ہے، نجم الدین احمد کا کلام فصاحت، بلاغت اور والہانہ جذبۂ عشقِ رسول سے لبریز ہے جو انہیں اپنے عہد کے ممتاز شعرا میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے، 1945ء میں ان کا انتقال ہوا اور بدایوں ہی میں سپردِ خاک ہوئے۔