نسیم بدایونی کا تعارف
احمد حسین ولد محمد حسین، محلہ سوتھا، بدایوں کے ساکن اور نسباً شیوخِ صدیقی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 2 اکتوبر 1926ء کو تحصیل گنور میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی اور قرآنِ مجید کی تعلیم بھی انہی سے پائی، آپ کے دادا انگریزی تعلیم کے مخالف تھے، اس لیے انہوں نے آپ کا نام اسکول سے کٹوا کر مدرسہ قادریہ، بدایوں میں داخل کرا دیا جہاں آپ نے قرآنِ مجید حفظ کیا اور درسِ نظامی کی تکمیل کی، اس کے ساتھ ساتھ آپ نے عصری تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی، ایڈ کی ڈگری حاصل کی، آپ ایک خوش بیان واعظ تھے اور اپنی خطابت کے سبب عوام و خواص میں مقبول تھے، آپ کی دینی و سماجی خدمات کے اعتراف میں اربابِ کمیٹی اسلامیہ کالج نے آپ کو اپنی کمیٹی کا صدر نامزد کیا، 1968ء میں آپ نے فریضۂ حج ادا کیا اور سلسلۂ قادریہ میں مولانا عبدالقدیر قادری سے بیعت کی، 29 اکتوبر 1992ء کو طویل علالت کے بعد آپ کا انتقال ہوا، شاعری کا شوق آپ کو بچپن ہی سے تھا، جس کا آغاز نعت گوئی سے ہوا اور پھر زندگی بھر آپ نے نعت کے سوا کسی اور صنف میں طبع آزمائی نہیں کی، اگرچہ آپ کا کوئی باقاعدہ مجموعۂ کلام شائع نہ ہوسکا، تاہم نثر میں آپ کی ایک اہم تصنیف اکابرِ بدایوں 1985ء میں شائع ہوئی جو ان کی علمی و تحقیقی خدمات کا مظہر ہے۔