نو بہار سنگھ کا تعارف
صابر کا اصل نام نوبہار مٹریہ تھا، وہ 11 نومبر 1907ء کو ٹوہانہ، حصار میں پیدا ہوئے، ان کی مستقل رہائش پٹیالہ میں رہی اور غالباً 1984ء میں اسی شہر میں وفات پائی، صابر محض ایک صاحبِ طرز شاعر ہی نہ تھے بلکہ نظم و نثر، ڈراما نگاری اور ادبی تالیف کے میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے، ان کے شعری مجموعوں میں رشی درشن (1928ء)، کارواں خیالوں کا (1969ء)، زرد پتے (1978ء) اور دھنک رنگ (1982ء) خاص اہمیت رکھتے ہیں، ان کی منظوم تصنیف پیامِ بیداری 1932ء میں شائع ہوئی لیکن انگریزی حکومت نے اسے ضبط کرلیا، ڈراما نگاری کے میدان میں ان کا ڈراما راج کماری لتا 1927ء میں منظرِ عام پر آیا، قومی احساسات سے سرشار ان کا شعری مجموعہ دھرتی کی خوشبو 1976ء میں شائع ہوا، جبکہ ان کی دیگر اہم تالیفات میں لہو ترنگ (1966ء)، ارمغانِ تاشقند (1967ء) اور لہو پکارے گا آستیں کا (1973ء) شامل ہیں، ان کی نعتیہ شاعری ان کے قلبی خلوص، والہانہ عقیدت اور محبتِ رسولِ اکرم کی بہترین ترجمان ہے۔