Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

نظامی بدایونی

1872 - 1947 | بدایوں, بھارت

بدایوں کے ممتاز شاعر، صحافی اور بانیِ نظامی پریس تھے جنہوں نے نعتیہ شاعری اور ادبی صحافت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

بدایوں کے ممتاز شاعر، صحافی اور بانیِ نظامی پریس تھے جنہوں نے نعتیہ شاعری اور ادبی صحافت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

نظامی بدایونی کا تعارف

تخلص : 'نظامی'

اصلی نام : نظام الدین حسین

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : 08 Jun 1947 | اتر پردیش, بھارت

نظام الدین حسین بن مولوی فخرالدین، محلہ سوتھا کے معزز اور علمی خانوادۂ متولیان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 1288ھ مطابق 1872ء میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے والدِ محترم سے حاصل کی، جن کی تربیت نے آپ کی علمی بنیاد کو مستحکم کیا۔ بعد ازاں آپ نے 1888ء میں مڈل کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور 1892ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے انٹرنس کا امتحان امتیازی حیثیت سے مکمل کیا، تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے کلکٹری شاہجہاں پور میں نقل نویس کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، تاہم 1903ء میں اس ملازمت سے مستعفی ہو گئے اور ادبی و صحافتی میدان میں قدم رکھا، اسی سلسلے میں آپ نے “ذوالقرنین” کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا، جو علمی و ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، 1905ء میں آپ نے نظامی پریس کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں آپ کے لیے مستقل ذریعۂ معاش بن گیا، آپ کو شاعری کا ذوق خاندانی ورثے میں ملا تھا، ابتدا ہی سے آپ نے سخن فہمی اور شعری ذوق کی آبیاری کے لیے نامور اہلِ علم و ادب سے رہنمائی حاصل کی، شاعری میں آپ نے مولوی عبدالحی بیخود بدایونی، الطاف حسین حالی اور مولوی انصار حسین جیسے جید اساتذہ سے اصلاح لی، جبکہ نثر کے میدان میں منشی رحمت اللہ رعد، مدیر “عالمِ تصویر”، سے استفادہ کیا، آپ کے شعری مجموعوں میں “تجلیاتِ سخن” (1930ء) اور “لمعاتِ نظامی” خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، اس کے علاوہ آپ کی دیگر تصانیف میں “چند نظموں کا گلدستہ”، “قوم کی فریاد” اور حالی کے قصیدۂ دعائیہ کی تضمین شامل ہیں، نعتیہ شاعری کی طرف آپ کا خصوصی رجحان تھا، جس کا اظہار آپ کی منظومات “صبحِ میلاد”، “مسدس مولود کی خوشی” اور “نکاحِ فاطمہ” میں بخوبی ہوتا ہے، 8 جون 1940ء کو آپ کا انتقال ہوا اورخاندانی قبرستان، ملاسرائے میں سپردِ خاک کیا گیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے