نور بدایونی کا تعارف
نور، ساکن عارف پور نوادہ، بدایوں، نسباً شیوخِ صدیقی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، آپ کی ولادت 1905ء میں ہوئی، کم سنی ہی میں والد کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا، جس کے بعد آپ کی پرورش آپ کے ماموں چودھری احمد حسن علیل اور چودھری ابوالحسن کی سرپرستی میں ہوئی، یہ ایک مذہبی اور باوقار گھرانہ تھا، جس کے اثرات نور کی شخصیت اور مزاج پر گہرے طور پر مرتب ہوئے، آپ کی پہلی شادی ڈاکٹر امیر حسن صدیق سے ہوئی لیکن یہ رشتہ دیرپا ثابت نہ ہوسکا اور باہمی عدم موافقت کے باعث علیحدگی اختیار کرنی پڑی، بعد ازاں دوسری شادی ہوئی مگر وہ بھی آپ کے لیے سکون اور اطمینان کا باعث نہ بن سکی، نتیجتاً نور کی زندگی محرومیوں، رنج و الم اور داخلی کرب کی تصویر بن کر رہ گئی، انہی حالاتِ یأس و افسردگی میں انہوں نے شاعری کو اپنے جذبات کے اظہار کا وسیلہ بنایا اور اپنے باطنی احساسات کو الفاظ کا پیکر عطا کیا، نور کی شاعری میں درد، تنہائی اور روحانی وابستگی کا گہرا رنگ پایا جاتا ہے، ان کا شعری مجموعہ ’’خونابۂ دل‘‘ 1945ء میں شائع ہوا، جس میں ان کے فکری و جذباتی رجحانات کی عمدہ ترجمانی ملتی ہے، نعت گوئی میں بھی انہیں خاص ملکہ حاصل تھا اور انہوں نے اس صنف میں نہایت خلوص اور عقیدت کے ساتھ طبع آزمائی کی، زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے نعت کے سوا دیگر اصنافِ سخن سے تقریباً کنارہ کشی اختیار کر لی تھی، آپ کا انتقال 1980ء میں کراچی میں ہوا۔