Font by Mehr Nastaliq Web
Qais Jalandhari's Photo'

قیس جالندھری

1904 - 1994 | جالندھر, بھارت

داغ دہلوی کے دبستان کے ممتاز شاعر و ادیب تھے، سو سے زائد کتب کے مصنف اور ’’رسول درشن‘‘ کے خالق تھے، جس میں ان کی نعتیہ عقیدت نمایاں ہے۔

داغ دہلوی کے دبستان کے ممتاز شاعر و ادیب تھے، سو سے زائد کتب کے مصنف اور ’’رسول درشن‘‘ کے خالق تھے، جس میں ان کی نعتیہ عقیدت نمایاں ہے۔

قیس جالندھری کا تعارف

تخلص : 'قیس'

اصلی نام : امر چند

پیدائش :ہوشیار پور, پنجاب

وفات : 16 Jan 1994 | پنجاب, بھارت

رشتہ داروں : گیان چند منصور (بیٹا)

قیس جالندھری جن کا اصل نام امر چند تھا، داغ دہلوی کے دبستانِ شعر کے نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے ہیں، انہیں فخرِ جالندھر پروفیسر سید محمد علی آذر کی یادگار اور جوش ملسیانی کے جانشیں ہونے کا اعزاز حاصل تھا، اردو و ہندی کے علاوہ انگریزی اور فارسی میں بھی انہوں نے اپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، ان کا قلم نہایت زرخیز تھا اور وہ سو سے زائد کتابیں تصنیف کرچکے تھے، متعدد رسائل و جرائد کی ادارت و ترتیب سے بھی وابستہ رہے اور ان کا حلقۂ تلامذہ خاصا وسیع تھا، حکومتِ پنجاب نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 1981ء میں انہیں ’’سرکردہ اردو شاعر‘‘ کا ایوارڈ عطا کیا، قیس جالندھری کی شاعری میں نعتیہ رنگ کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے، ’’رسول درشن‘‘ ان کا مجموعۂ کلام ہے، جس میں بارگاہِ رسالت مآب سے ان کی والہانہ عقیدت اور قلبی وابستگی کی جھلک نمایاں ہے، نعت گوئی سے انہیں فطری لگاؤ تھا اور انہوں نے قطعہ، رباعی اور نظم جیسی مختلف شعری اصناف میں بھی عشقِ رسول کے جذبات کا اظہار کیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے