Font by Mehr Nastaliq Web
Qaisar Siddiqui Samastipuri's Photo'

قیصر صدیقی سمستی پوری

1937 - 2018 | سمستی پور, بھارت

"اپنے ماں باپ کا تو دل نہ دکھا" اور "ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے" جیسے کلام کے خالق

"اپنے ماں باپ کا تو دل نہ دکھا" اور "ماٹی کے پتلے تجھے کتنا گمان ہے" جیسے کلام کے خالق

قیصر صدیقی سمستی پوری کا تعارف

تخلص : 'قیصر'

اصلی نام : افتخار احمد

پیدائش : 19 Mar 1937 | سمستی پور, بہار

وفات : 04 Sep 2018 | بہار, بھارت

قیصر صدیقی سمستی پوری کا اصل نام افتخار احمد تھا اور شعری دنیا میں قیصر صدیقی کے نام سے شہرت پائی، 19 مارچ 1937ء کو سمستی پور کے ایک مردم خیز گاؤں گوہر نوادہ میں پیدا ہوئے، فطری ذوقِ شعر، وسیع مطالعہ اور مسلسل ریاضت نے انھیں بہت جلد شعر و ادب کی دنیا میں ممتاز مقام عطا کیا، وہ نہایت کہنہ مشق، زود گو اور قادرالکلام شاعر تھے جن کی سخن سازی تقریباً سات دہائیوں پر محیط ہے، اس طویل شعری سفر اور غیر معمولی تخلیقی فعالیت کے پیشِ نظر انہیں بجا طور پر ’’صدی کا جریدۂ شاعری‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے، قیصر صدیقی نے شاعری کی متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی اور کئی دشوار اور کم مروج اصنافِ سخن میں بھی اپنی فنی مہارت کا ثبوت دیا، تاہم ان کی اصل شناخت ایک غزل گو شاعر کی ہے، ان کی غزلوں میں کلاسیکی روایت کی خوشبو بھی ملتی ہے اور عصرِ حاضر کے مسائل و احساسات کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے، زبان کی شگفتگی، بیان کی سلاست، جذبے کی صداقت اور فکر کی گہرائی ان کے کلام کے نمایاں اوصاف ہیں، ان کا پہلا مجموعۂ غزل ’’صحیفہ‘‘ تقریباً سینتیس برس قبل منظرِ عام پر آیا اور اہلِ ادب سے بھرپور پذیرائی حاصل کی، اس کے بعد ان کا نسبتاً ضخیم مجموعۂ غزل ’’ڈوبتے سورج کا منظر‘‘ شائع ہوا جس نے ان کی شعری بصیرت اور فنی پختگی کو مزید نمایاں کیا، ان کے دیگر شعری مجموعوں میں ’’اجنبی خواب کا چہرہ‘‘، ’’بے چراغ آنکھیں‘‘، ’’درد کا چہرہ‘‘ اور ہندی زبان میں شائع ہونے والا مجموعہ ’’غزل چہرہ‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، غزل کے علاوہ نظم کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا، ان کی نظموں کا مجموعہ ’’سجدہ گاہِ فلک‘‘ ان کے فکری اور جمالیاتی شعور کی عمدہ مثال ہے، جب کہ نعتیہ شاعری پر مشتمل مجموعہ ’’روشنی کی بات‘‘ ان کے قلبی اخلاص، عشقِ رسول اور روحانی وابستگی کا مظہر ہے، اسی طرح ’’زنبیلِ سحر تاب (ترانۂ سحر)‘‘ بھی ان کی اہم شعری کاوشوں میں شمار ہوتا ہے، قیصر صدیقی کی شاعری میں محبت، دردِ انسانیت، عصری حسیت، تہذیبی شعور اور جمالیاتی احساسات ایک دلکش امتزاج کے ساتھ جلوہ گر ہیں، وہ ان شاعروں میں تھے جنہوں نے روایت کے احترام کے ساتھ جدید حسیت کو بھی اپنے کلام میں جگہ دی اور یوں اپنے عہد کے معتبر اور نمائندہ شعرا میں شمار ہوئے، 4 ستمبر 2018ء کو یہ عظیم شاعر دنیائے فانی سے رخصت ہوگیا لیکن اس کا شعری سرمایہ آج بھی اہلِ ذوق کے دلوں کو منور کر رہا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے