Font by Mehr Nastaliq Web
Qazi Abdul Rahim Ajmeri's Photo'

قاضی عبدالرحیم اجمیری

1860 - 1925 | اجمیر, بھارت

قاضی عبدالرحیم اجمیری کے صوفی اقوال

باعتبار

گانے والے سے اور فقیر سے کبھی فرمائش نہ کرنا چاہیے۔

جس طرح نشانہ ایک ہوتا ہے اور تیر انداز مختلف اسی طرح مذہب مختلف ہیں مگر سب پوجتے اسی ایک خدا کو ہیں۔

جب سب کچھ اس کی راہ میں قربان کر دیتا ہے پھر وہی اس کی عنایت سے مل جاتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ملتا ہے۔

حسن و عشق سے دنیا میں کوئی چیز خالی نہیں، ہر چیز میں حسن و عشق موجود ہے۔

فقیری کپڑے رنگنے اور بال بڑھانے کا نام نہیں بلکہ وہ دل سے متعلق ہے، جو شخص کپڑے پہن لے اور بادشاہوں کے دربار کے آداب نہ جانے تو کپڑے پہننے سے کیا ہوتا ہے۔

فقیر کی زبان کٹی ہوتی ہے۔

ایک اپنا دوست ایک دوست کا دوست، ایک دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے اور اپنا دشمن اور دشمن کا دوست اور دوست کا دشمن دشمن ہوتا ہے۔

نیت درست ہو تو دعا کا اثر کھلے۔

کسی کو دے تو اچھی چیز دے۔

انسان وہی ہے جو دوسروں کا بھلا کرے، اپنا پیٹ تو کتاب بلی بھی بھر لیتا ہے۔

وفا داری بہت مشکل چیز ہے جس کو وفاداری آتی ہے، سب کچھ آتا ہے۔

اثر ہر شخص میں ہوتا ہے۔

کوئی اچھا ہے تو اپنے واسطے اور برا ہے تو اپنے واسطے۔

معاملہ میں آدمی کو نہایت صاف ہونا چاہیے، کبھی بے معاملہ نہ ہو اور معاملہ تو باپ بیٹے کا ہوتا ہے۔

عاجزی اور صبر فقیر کے واسطے بہت بہتر چیز ہے جس میں عاجزی اور صبر نہیں وہ فقیر نہیں۔

ہر شخص کی عزت اس کے مرتبہ کے موافق کرنا چاہیے۔

پردہ کی بات پردہ ہی سے کرنا بہتر ہے۔

دنیا کے لوگوں نے تو رسول کو کہنے سے نہیں چھوڑا، نبیوں کو نہیں چھوڑا، خدا کو نہیں، تو ہم کیوں برا مانیں۔

پیر کی تعلیم مریدوں کے واسطے یکساں ہوتی ہے مگر مریدوں کے طباع مخلتف ہوتے ہیں۔

خدا تو کسی کا برا نہیں کرتا، لوگ اپنا برا اپنے آپ کر لیتے ہیں۔

ظاہر کا کام ظاہر سے درست ہوتا ہے اور باطن کا باطن سے۔

ترکِ عادت عداوت ہے۔

ایک شخص شراب خانے سے شراب پی کر نکلا تو ہمیں کیا اور دوسرا شخص مسجد سے نماز پڑھ کر نکلا تو ہمیں کیا۔

ہر شخص کا راز ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے، ایک بات بیوی سے کہنے کی ہے بیٹی سے کہنے کی نہیں۔

پاس والے کا پاس سب کو ہوتا ہے یعنی جو جس کے پاس آتا جاتا ہے اس کو اس کی پاسداری ہوتی ہے۔

راز کی بات ہر شخص سے نہ کہنا چاہیے، جو آج دوست ہے کل وہی دشمن ہو جائے تو کیا کیجیے۔

عشق میں گفتگو نہیں ہے بلکہ خاموشی ہے۔

جب آدمی قبر کے ساتھ قبر ہو جاتا ہے تب کچھ حاصل ہوتا ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے