Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

رعنا بلسوی

1918 - 1982 | سیتا پور, بھارت

عشقِ رسول سے سرشار نعت گو شاعر تھے جنہوں نے اپنے کلام میں عقیدتِ نبوی کو دل آویز انداز میں پیش کیا۔

عشقِ رسول سے سرشار نعت گو شاعر تھے جنہوں نے اپنے کلام میں عقیدتِ نبوی کو دل آویز انداز میں پیش کیا۔

رعنا بلسوی کا تعارف

تخلص : 'رعنا'

اصلی نام : جسونت رائے سکسینہ

پیدائش : 16 Aug 1918 | سیتا پور, اتر پردیش

وفات : 10 Feb 1982

جسونت رائے سکسینہ جو ادبی دنیا میں رعنا بلسوی کے نام سے معروف ہیں، 16 اگست 1918ء کو سیتاپور کے ایک معزز اور علمی خاندان میں پیدا ہوئے، ان کے جدِ امجد منشی کلیان رائے کوتوال اپنے عہد کے نامور عالم تھے جبکہ وہ عربی و فارسی کے جید عالم اور خوش فکر شاعر منشی تربینی سہائے ثمر کے چھوٹے بھائی تھے، ان کے والد بسنت رائے سکسینہ محکمۂ ریلوے میں ملازم تھے اور خود بھی مخمور تخلص سے شاعری کرتے تھے، شاعری میں انہیں سرور جہاں آبادی کی شاگردی حاصل تھی، چنانچہ رعنا بلسوی کو شعری ذوق خاندانی ورثے میں ملا، ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے والد سے حاصل کی، جبکہ چھ یا سات برس کی عمر میں باقاعدہ مکتبی تعلیم کا آغاز کیا، کم عمری ہی میں اردو اور فارسی زبانوں پر اچھی دسترس حاصل کرلی، جس کے بعد انگریزی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے، 1936ء میں چندوسی کالج سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان کامیابی سے پاس کیا، تاہم اس کے بعد رسمی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا، 1938ء میں وہ محکمۂ ریلوے میں بحیثیتِ اسٹیشن ماسٹر ملازم ہوئے اور اسی شعبے سے وابستہ رہے، ملازمت کی مصروفیات کے باوجود ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور سبکدوشی تک شعر و ادب کی خدمت میں مصروف رہے، شاعری کے آغاز میں انہوں نے تاج صدیقی امروہوی تلمیذِ رسا رامپوری سے اصلاح لی، بعد ازاں وہ کہنہ مشق استاد سیماب اکبرآبادی کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوگئے، جہاں ان کی شعری استعداد کو مزید جلا ملی، رعنا بلسوی نے غزل کے ساتھ نعتیہ شاعری میں بھی نمایاں طبع آزمائی کی، ان کے نعتیہ کلام میں عشقِ رسولِ اکرم، ادبِ بارگاہِ نبوی اور فنی لطافت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، 10 فروری 1982ء کو وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے