رعنا بلسوی کا تعارف
رعنا ہلسوی کی پیدائش 16 اگست 1918ء کو سیتاپور میں ایک ایسے علمی و ادبی خانوادے میں ہوئی جہاں علم، فضل اور شعر و ادب کی روایت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی تھی، ان کے جد امجد منشی کلیان رائے سکسینہ سیتاپور کے کوتوال تھے، وہ عربی و فارسی کے جید عالم، صاحبِ ذوق شاعر اور اپنے عہد کے ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے، مزید برآں وہ معروف شاعر منشی تربینی سہائے ثمر کے چھوٹے بھائی تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رعنا ہلسوی کو ورثے میں ایک مضبوط علمی اور ادبی ماحول میسر آیا تھا، ان کے والد بسنت رائے سکسینہ بھی صاحبِ ذوق شاعر تھے، رعنا ہلسوی کی ابتدائی تعلیم و تربیت ان کے والد کی نگرانی میں ہوئی، تقریباً چھ یا سات برس کی عمر میں انہوں نے مکتبی تعلیم کا آغاز کیا، جہاں اردو اور فارسی زبانوں کی بنیادی تعلیم حاصل کی، ان دونوں زبانوں پر معقول دسترس حاصل کرنے کے بعد انہوں نے انگریزی تعلیم کی طرف توجہ کی اور جدید تعلیمی نظام سے بھی استفادہ کیا، 1936ء میں انہوں نے چندوسی کالج سے انٹرمیڈیٹ کا امتحان کامیابی سے پاس کیا، اگرچہ اس کے بعد رسمی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا لیکن ان کا ذوقِ مطالعہ اور خود آموزی کا شوق زندگی بھر برقرار رہا، 1938ء میں محکمۂ ریلوے میں ان کا تقرر بحیثیت اسٹیشن ماسٹر ہوا، اس منصب پر انہوں نے طویل عرصے تک ذمہ داریاں انجام دیں اور 1957ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے، فنِ شاعری میں رعنا ہلسوی نے ابتدا میں تاج صدیقی امروہوی جو رسا رامپوری کے تلمیذ تھے ان سے اصلاحِ سخن حاصل کی، بعد ازاں انہیں سیمابؔ اکبرآبادی کی شاگردی کا شرف نصیب ہوا، انہوں نے شاعری کی تقریباً تمام اصناف میں طبع آزمائی کی، تاہم غزل اور رباعی ان کی محبوب ترین اصناف تھیں، رعنا ہلسوی نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا، ان کے نعتیہ کلام میں عشقِ رسول، ادبِ نبوی اور روحانی وارفتگی کی پاکیزہ کیفیات نہایت مؤثر انداز میں جلوہ گر ہوتی ہیں، 10 فروری 1982ء کو یہ صاحبِ علم و سخن انجمنِ شعر و ادب سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا۔