رفیع بخش کا تعارف
رفیع بخش ولد قیوم بخش، بدایوں کے سول لائنز کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 15 اکتوبر 1929ء کو بدایوں میں ہوئی، ابتدائی اور ثانوی تعلیم یہیں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا، جہاں سے آپ نے ایم اے اور ایل، ایل، بی کی اسناد امتیازی حیثیت سے حاصل کیں، تعلیم سے فراغت کے بعد 1950ء میں آپ نے صدیق نیشنل انٹر کالج، پیلی بھیت میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا، تدریس آپ کے لیے محض پیشہ نہ تھا بلکہ ایک مشن کی حیثیت رکھتا تھا، جسے آپ نے نہایت اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، 1967ء میں والد کے انتقال کے بعد آپ نے اپنی خدمات اسلامیہ انٹر کالج، بدایوں منتقل کرا لیں، جہاں آپ نے تقریباً سترہ برس تک تدریسی و تربیتی فرائض انجام دیے، بیماری کے باعث 12 اگست 1984ء کو قبل از وقت ملازمت سے سبکدوش ہونا پڑا اور اسی سال 27 نومبر 1984ء کو آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے، ادبی میدان میں آپ کی شناخت ایک سنجیدہ اور صاحبِ ذوق شاعر کی ہے، اگرچہ آپ نے شاعری کا باقاعدہ آغاز نسبتاً تاخیر سے 1972ء کے لگ بھگ کیا، تاہم قلیل عرصے میں اپنی ایک منفرد شناخت قائم کر لی، آپ نے اصلاحِ سخن کے لیے رونق بدایونی سے رہنمائی حاصل کی جس کے نتیجے میں آپ کے کلام میں فنی پختگی اور فکری گہرائی پیدا ہوئی، آپ کا شعری سرمایہ مختلف اصناف پر مشتمل ہے، آپ کا مجموعۂ کلام "لفظ و بیان" 1983ء میں شائع ہوا، جس میں متنوع شعری رنگ اور فکری تنوع نمایاں ہے، جبکہ نعتیہ کلام کا مجموعہ "ماہ و نجوم" 1985ء میں منصۂ شہود پر آیا جو آپ کے دینی ذوق اور عشقِ رسول کی سچی ترجمانی کرتا ہے۔