Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

رگھونند راؤ جذب

1894 - 1973 | حیدرآباد, بھارت

اردو کے ممتاز رباعی گو شاعر، محقق اور نعت گو تھے۔

اردو کے ممتاز رباعی گو شاعر، محقق اور نعت گو تھے۔

رگھونند راؤ جذب کا تعارف

تخلص : 'جذب'

اصلی نام : رگھونند راؤ

پیدائش : 20 Apr 1894 | کرناٹک

وفات : 28 Sep 1973

پنڈت رگھونندن راؤ جذب 20 اپریل 1894ء کو گنگاوتی، رائچور میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام پنڈت رام راؤ تھا، دو برس کی عمر میں پالن پور، محبوب نگر کی ایک متمول برہمن خاتون شریمتی سیتا بائی نے انہیں گود لے لیا، ان کی سرپرستی میں ان کی تعلیم و تربیت نہایت اہتمام اور توجہ کے ساتھ ہوئی جس نے ان کی علمی اور ادبی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، تعلیم کی تکمیل کے بعد انہوں نے وکالت کے پیشے کو اختیار کیا اور ایک عرصے تک اس شعبے سے وابستہ رہے، 1948ء میں وہ پالن پور سے حیدرآباد منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے ادبی سرگرمیوں میں پہلے سے زیادہ فعال کردار ادا کیا، شعری تربیت کے سلسلے میں انہوں نے مولانا احمد حسین شوکت میرٹھی سے اصلاح حاصل کی، اس کے علاوہ غلام محمد المعروف ترک علی شاہ ترکی اور سخا دہلوی سے بھی کسبِ فیض کیا، بعد ازاں امجد حیدرآبادی اور جگر بریلوی سے بھی اصلاح لیتے رہے، رباعی گوئی میں انہیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، آگرہ اردو مجلس نے ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں "خیامِ آندھرا" کے خطاب سے نوازا جو ان کی رباعی نگاری کا ایک اہم اعتراف ہے، ان کی تصنیفی خدمات بھی نہایت وقیع ہیں، غزلوں کا مجموعہ "سازِ غزل" 1972ء میں شائع ہوا جبکہ رباعیات کے پانچ مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں، ان کا ایک اہم علمی کارنامہ "خمخانۂ سخن" ہے جس میں جنوبی ہند کے شعرا کا مفصل تذکرہ پیش کیا گیا ہے، یہ کتاب 1371ھ میں مکمل ہوئی اور جنوبی ہند کی ادبی تاریخ کے حوالے سے ایک مستند ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، پنڈت رگھونندن راؤ جذب نے نعتیہ شاعری بھی کی، جس میں محبتِ رسولِ اکرم، احترامِ نبوت اور روحانی عقیدت کے جذبات نہایت دل نشیں انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں، 28 دسمبر 1973ء کو ان کا انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے