Sufinama
Raheem's Photo'

رحیم

1553 - 1626

باعتبار

ماہ ماس لہی ٹیسوا مین پرے تھل اور

تیوں رحیمؔ جگ جانئے چھٹے آپنے ٹھور

ہوت کرپا جو بڈین کی سو کداچی گھٹی جاے

تو رحیمؔ مربو بھلو یہ دکھ سہو نہ جاے

رحمن بات اگمیے کی کہن سنن کی ناہں

جے جانت تے کہت نہی کہت تے جانت ناہں

سر سوکھے پچھی اڑے، اورے سرن سماہں

دین مین بن پچھی کے کہو رحیمؔ کہں جاہں

رحمن دردن کے پرے بڑین کئے گھٹی کاج

پانچ روپ پانڈو بھئے، رتھواہک نلراج

رحمن تب لگی ٹھہریے دان مان سنمان

گھٹت مان دیکھیہ جبہں ترتہی کریے پیان

بھوپ گنت لگھو گنن کو گنی گنت لگھو بھوپ

رحمن گری تیں بھومی لوں لکھو تو ایکئے روپ

سمے پاے پھل ہوت ہے سمے پاے جھری جات

سدا رہے نہں ایک سی کا رحیمؔ پچھتات

رحمن جو تم کہت ہو سنگتی ہی گن ہوے

بیچ اکھاری رمسرا رس کاہے نہ ہوے

رحمن رس سہی تجت نہں بڑے پریتی کی پوری

موکن مارت آوئی نیند بچاری دوری

رحمن آنٹا کے لگے باجت ہے دن راتی

گھیؤ شکر جے کھات ہے تنکی کہا بساتی

رحمن سدھی سبتے بھلی لگے جو بارمبار

بچھرے مانش پھری ملیں یہئے جان اوتار

سسی کی سیتل چاندنی سندر سبہں سہاے

لگے چور چت میں لٹی گھٹی رحیمؔ من آئے

رحمن یاچکتا گہے بڑے چھوٹ ہوے جات

نارائن ہو کو بھیو باون آنگر گات

رحمن منہں لگائ کے دیکھی لیہ کن کوئے

نر کو بس کربو کہا نارائن بس ہوے

ریتی پریتی سب سوں بھلی بیر نہ ہت مت گوت

رحمن یاہی جنم کی بہری نہ سنگتی ہوت

رحمن کہت سپیٹ سوں کیوں نہ بھیو تو پیٹھ

ریتے انریتے کرے بھرے بگارت دیٹھ

رحمن کو کوؤ کا کرے جوار چور لبار

جو پت راکھن ہار ہیں ماکھن چاکھن ہار

رحمن اپنے گوت کو سبئے چہت اتساہ

مرگ اچھرت آکاش کو بھومی کھنت براہ

رحمن تین پرکار تے ہت انہت پہچانی

پر بس پرے پروس بس پرے معاملہ جانی

رحمن بدیا بدھی نہں نہیں دھرم جس دان

بھو پر جنم ورتھا دھرئے پسو بنو پونچھ بشان

رحمن بھیشج کے کئے کال جیتی جو جات

بڑے بڑے سمرتھ بھئے تو نہ کوؤ مری جات

رام نہ جاتے ہرن سنگ سیہ نہ راون ساتھ

جو رحیمؔ بھاوی کتہں ہوت آپنے ہاتھ

رحمن نج من کی بتھا من ہی راکھو گوے

سنی اٹھلینہیں لوگ سب بانٹی نہ لیہے کوے

رحمن جگت بڑائ کی کوکر کی پہچانی

پریتی کرئے مکھ چاٹئی بیر کرے تن ہانی

مہی نبھ سر پنجر کیو رحمن بل اوسیش

سو ارجن بیراٹ گھر رہے ناری کے بھیش

رحمن انسوا نین ڈھری جیہ دکھ پرگٹ کریئ

جاہی نکارو گیہ تے کس نہ بھید کہی دیئ

سسی سکیس ساہس سلل مان سنیہ رحیمؔ

بڑھت بڑھت بڑھی جات ہیں گھٹت گھٹت گھٹی سیم

لکھی رحیمؔ للار میں بھئی آن کی آن

پد کر کاٹی بنارسی پہنچے مگہر تھان

رحمن چپ ہوے بیٹھیے دیکھئی دنن کو پھیر

جب نیکے دن آئہیں بنت نہ لگہے دیر

مانگے گھٹت رحیمؔ پد کتو کرو بڑھی کام

تین پیگ بسُدھا کری تؤ باونئے نام

رحمن سو نہ کچھو گنے جاسوں لاگے نین

سہی کے سوچ بیساہیو گیو ہاتھ کو چین

منسج مالی کی اپج کہی رحیم نہی جائے

پھل شیاما کے ار لگے پھول کوئی ار آئے

رحمن مانگت بڈین کی لگھُتا ہوت انوپ

بلی مکھ مانگن کو گئے دھری باون کو روپ

موڈھ منڈلی میں سُجن ٹھہرت نہیں بسیکھی

سیام کنچن میں سیت جیوں دوری کیجئت دیکھی

رحمن اجلی پرکرت کو نہیں نیو کو سنگ

کریا باسن کر گہے کالکھ لاگت انگ

روپ بلوکی رحیم تہں جہں جہں من لگی جائے

تھاکے تاکہں آپ بہو لیت چھوڑائے چھوڑائے

رحمن رس کو چھانڈی کئے کرو گریبی بھیس

میٹھو بولو نے چلو سبئے تمہارو دیس

سب کو سب کوؤ کرئے کے سلام کے رام

ہت رحیمؔ تب جانئے جب کچھو اٹھکئے کام

روپ کتھا پد چارو پٹ کنچن دوہا لال

جیو جیو نرکھت سوکشم گتی مول رحیمؔ بسال

رحمن جگ جیون بڑے کاہو نہ دیکھے نین

جائے دشانن اچھت ہی کپی لاگے گتھ لین

ہت رحیمؔ ات او کرے جاکی جہاں بسات

نہں یہ رہئے نہ وہ رہے رہے کہن کو بات

سوارتھ رچت رحیمؔ سب اوگنہو جگ مانہی

بڑے بڑے بیٹھے لکھو پتھ رتھ کوبر چھانہی

رحمن چھوٹے نرن سوں ہوت بڑو نہیں کام

مڈھو دمامو نا بنے سو چوہے کے چام

رحمن دیکھی بڈین کو لگھو نہ دیجیے ڈاری

جہاں کام آوے سوئی کہا کرے تلواری

رحِمن بہو بھیشج کرت بیادھی نہ چھانڑت ساتھ

کھگ مرگ بست اروغ بن ہری اناتھ کے ناتھ

یہ رحیم پھیکے دبَو جانی مہا سنتاپو

جیوں تیہ کچ آپن گہے آپ بڑائی آپو

رحمن کبھہوں بڑین کے نانہیں گرو کو لیس

بھار دھرے سنسار کو تؤ کہاوت سیس

وے رحیم نر دھنیہ ہیں پر اپکاری انگ

بانٹنوارے کو لگے جیوں میندہی کو رنگ

رحمن کھوٹی آدی کی سو پرینام لکھائے

جیسے دیپک تم بھکھے کجل ومن کرائے