راجہ گردھاری پرساد کا تعارف
راجہ گردھاری پرشاد "باقی" جنہیں محبوب نوازونت کے خطاب سے بھی سرفراز کیا گیا، یکم رجب 1244ھ کو پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام نرہری پرشاد تھا، جبکہ دولت رائے ان کے جد امجد تھے، انہوں نے فارسی زبان و ادب کی تعلیم محمد علی "عاشق" سے حاصل کی اور فارسی کلام کی اصلاح بھی انہی سے لیتے رہے، جبکہ فنِ شاعری میں انہیں حضرت فیض سے شرفِ تلمذ حاصل تھا، عملی زندگی میں وہ ریاستی انتظامیہ کے نہایت اہم مناصب پر فائز رہے، ابتدا میں صدر سررشتہ داری فوجِ باقاعدہ مقرر ہوئے اور 1288ھ میں جمعیتِ نظامِ محبوب کے قیام کے بعد اس ادارے کی سررشتہ داری بھی ان کے سپرد کی گئی، ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر نواب سالار جنگ نے انہیں اتالیق اور مقربِ شاہی مقرر کیا، بعد ازاں 1301ھ میں دربارِ حکمرانی کے موقع پر انہیں راجہ بہادر کا خطاب مع لوازمات عطا ہوا، جبکہ 1312ھ میں جشنِ سالگرہ کے موقع پر راجہ محبوب نوازونت کے خطاب سے مزید عزت افزائی کی گئی، راجہ صاحب کی ازدواجی زندگی میں پہلی اہلیہ سے چھ اور دوسری سے دس اولادیں ہوئیں، جن میں راجہ نرسنگھ راج اور راجہ محبوب راج خصوصیت سے معروف ہوئے، 23 صفر 1314ھ کو یہ ہمہ جہت شخصیت اس دارِ فانی سے رخصت ہوئی، راجہ گردھاری پرشاد "باقی" نہایت فیاض، وسیع المشرب اور غیر متعصب انسان تھے، وہ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور رفاہِ عامہ کے منصوبوں کی سرپرستی کرتے تھے، بزرگانِ دین کے نیاز و فاتحہ کا اہتمام نہایت شان و شوکت سے کرتے، جبکہ ماہِ رمضان میں روزہ داروں کے لیے افطار کا انتظام بھی بڑی دلچسپی اور عقیدت سے کراتے تھے، وضع داری، خوش اخلاقی اور رواداری ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے، انہیں موسیقی، خطاطی اور فنِ بنوٹ میں بھی غیر معمولی مہارت حاصل تھی، تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی ان کی خدمات نہایت وقیع ہیں، ان کی کل اکتیس تصانیف معلوم ہوتی ہیں، جن میں بیس کتابیں فارسی نظم، تین فارسی نثر، چار اردو نظم و نثر اور چار ہندی بھاکا میں ہیں، فارسی منظومات میں پیرایۂ عروض، یادگارِ باقی، قصائدِ باقی، بہارِ عام، مثنوی صنائع و بدائع، پرنس نامہ، تہنیاتِ باقی، ضرب الامثال، مکتوباتِ منظومہ، زمزمۂ باقی، بھاگوت شریف، رامائنِ مسیحا، رباعیاتِ بابرکات، رباعیاتِ مناجاتِ بارانِ رحمت، باقی نامہ، باغِ رزاق اور مثنوی شمعِ منور شامل ہیں، فارسی نثر میں منشآتِ باقی، کنوز التواریخ، کلامِ متفرقات، افض التصح (لغت) اور نوشتۂ عاقبت (سفرنامہ) قابلِ ذکر ہیں، اردو تصانیف میں یتی چرتر، تحقیقاتِ سیاق و سباق، بقائے باقی (دیوانِ اردو)، دردِ باقی اور دردِ ساقی شامل ہیں، علاوہ ازیں انہوں نے خواجہ میر درد کی دو سو فارسی رباعیات کا اردو رباعیوں میں ترجمہ بھی کیا، ہندی بھاشا میں ان کی تصانیف تیرتھ مال، شنبھو پران، بھاگوت سار اور ایک دوسری مذہبی تصنیف شامل ہیں، راجہ گردھاری پرشاد "باقی" کو حضرت محمد رسول اللہ سے قلبی عقیدت تھی، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور اپنے نعتیہ کلام کے ذریعے محبتِ رسول کے پاکیزہ جذبات کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔