رتن پنڈوری کا تعارف
پنڈت لالہ رام رتن پنڈوری برصغیر کے ممتاز شاعر، ادیب، محقق اور ماہرِ لسانیات تھے، ان کی ولادت 7 جولائی 1907ء کو پنڈوری میں پنڈت سرادس گھٹ شاستری کے گھر ہوئی، ابتدائی تعلیم و تربیت ایک علمی ماحول میں ہوئی، جس کے باعث کم عمری ہی سے زبان و ادب سے گہرا شغف پیدا ہوگیا، شاعری میں انہیں دل شاہجہان پوری کی شاگردی کا شرف حاصل تھا، جس نے ان کے شعری ذوق کو مزید جلا بخشی، وہ نظم اور نثر، دونوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے، شاعری میں انہوں نے غزل، نظم اور رباعی جیسی مختلف اصنافِ سخن میں کامیاب طبع آزمائی کی، ان کے چھ شعری مجموعے "فرشِ نظر"، "بہشتِ نظر"، "اندازِ نظر"، "پیامِ نظر"، "آخری نظر" اور "رباعیاتِ رتن" شائع ہو کر اہلِ ادب سے بھرپور دادِ تحسین حاصل کرچکے ہیں، شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو زبان و ادب کی تدریس، تحقیق اور تنقید کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں، قواعد، فنِ ادب اور تنقید سے متعلق ان کی متعدد کتابیں طویل عرصے سے طلبہ، اساتذہ اور اہلِ علم کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہورہی ہیں، ان میں "دستورِ قواعدِ اردو"، "رہنمائے ادب"، "معاون الادب"، "لطائف الادب" اور "فنِ تاریخ گوئی" خصوصی اہمیت کی حامل ہیں، تحقیق و تذکرہ نگاری کے میدان میں بھی ان کی خدمات نہایت نمایاں ہیں، ان کی ضخیم تصنیف "گلشنِ اردو" شملہ سے شائع ہوئی جو اردو ادب کے محققین کے لیے ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، اسی طرح "ہندی کے مسلمان شعرا" ان کی ایک وقیع تحقیقی کاوش ہے جبکہ "نورتن" جسے کتب خانہ انجمن ترقی اردو، دہلی نے شائع کیا، ان کے ادبی، فنی، تحقیقی اور تنقیدی مضامین کا عمدہ مجموعہ ہے، ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں دوردرشن، چنڈی گڑھ نے انہیں "ابوالبلاغت" کے خطاب سے سرفراز کیا اور 2100 روپے کی اعزازی رقم پیش کی، پنجاب حکومت نے بھی ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں "راشٹر کوی" کے اعزاز سے نوازا اور 9100 روپے کی اعزازی رقم عطا کی، پنڈت لالہ رام رتن پنڈوری نے نعتیہ شاعری بھی کی جس میں حضور اکرم کی ذاتِ اقدس سے والہانہ محبت، عقیدت اور احترام کا اظہار نہایت اخلاص، سوز اور فنی وقار کے ساتھ کیا گیا ہے، 4 نومبر 1990ء کو پٹھان کوٹ میں ان کا انتقال ہوا، ان کی علمی و ادبی خدمات اور نعتیہ سرمایہ اردو ادب کے مشترکہ تہذیبی ورثے کا قابلِ قدر حصہ ہیں۔