رونق بدایونی کا تعارف
رونق علی ولد عبداللہ خاں، بدایوں کے محلہ کمنگران کے معزز پٹھان خاندان کے چشم و چراغ تھے، آپ کی ولادت 5 جنوری 1923ء کو بدایوں میں ہوئی، آپ کے والد متوسط درجے کے زمیندار تھے مگر حالات کے نشیب و فراز اور ناؤ نوش کی عادت نے رفتہ رفتہ ان کی معاشی بنیاد کو کمزور کر دیا، چنانچہ رونق علی کے حصے میں تنگدستی، محنت اور جفاکشی آئی، ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے ایک پڑوسی حامد علی خاں شعلہ بریلوی کی ترغیب و رہنمائی سے حاصل کی، جنہوں نے آپ کو علم و ادب کی طرف مائل کیا، اسی جذبے کے تحت آپ نے مکتبی تعلیم مکمل کی اور مئی 1942ء میں تحصیلی اسکول فرشوری ٹولہ میں بحیثیت مدرس ملازمت اختیار کی، تدریس کے میدان میں آپ نے نہایت اخلاص اور محنت کے ساتھ خدمات انجام دیں، ادبی ذوق آپ میں ابتدا ہی سے موجود تھا، آپ نے 1938ء میں شاعری کا آغاز کیا اور اگلے ہی سال جامی بدایونی کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوگئے جو خود احسن کے شاگرد تھے، اس طرح آپ کو ایک مضبوط شعری روایت سے وابستگی حاصل ہوئی، جس نے آپ کے فن کو جلا بخشی اور اسے ایک خاص وقار عطا کیا، رونق علی کی شاعری میں سادگی، اثر انگیزی اور داخلی سوز و گداز نمایاں ہے، غزل کے میدان میں ان کا مجموعہ "نوائے دل" ان کے شعری کمال کا آئینہ دار ہے، جس میں جذبات کی صداقت اور اظہار کی لطافت دل کو چھو لیتی ہے، علاوہ ازیں ان کا نعتیہ مجموعہ "نغمۂ روح" بھی شائع ہوچکا ہے جو ان کے دینی ذوق اور عشقِ رسول کی عکاسی کرتا ہے۔