رشی پٹیالوی کا تعارف
بام دیو رشی خلفِ رام چند مصرا 26 جنوری 1917ء کو ہوشیارپور کے قصبہ بسی کلاں میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد بی۔اے. تک کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر ریاست پٹیالہ میں ملازمت اختیار کی، وہ لٹریری لیگ کے سکریٹری منتخب ہوئے اور علمی و ادبی حلقوں میں ایک فعال اور مؤثر شخصیت کے طور پر پہچانے جانے لگے، شاعری کے ابتدائی دور میں انہوں نے نسیمؔ نورمحلی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، بعد ازاں جوشؔ ملسیانی کی شاگردی اختیار کی، 1957ء سے 1967ء تک وہ بزمِ ادب، چنڈی گڑھ کے جنرل سکریٹری رہے، اس کے علاوہ انجمن ترقیِ اردو (ہند)، پنجاب شاخ اور پنجاب اردو وکاس بورڈ کے رکن کی حیثیت سے بھی اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیں، بام دیو رشی کی ادبی خدمات ان کی متعدد شعری تصانیف میں جلوہ گر ہیں، ان کے اہم مجموعوں میں ریگِ رواں (غزلیات، 1972ء)، جائزے (نظمیں، 1976ء)، آتشِ نغمہ (1976ء)، لہو پکارے گا آستیں کا (نظمیں، 1976ء)، پرتوِ جمہور (نظمیں، 1978ء)، ریاضِ نسیم (1978ء)، پھول ان کی مسکانوں کے (1979ء)، روشنی کتنی (1979ء)، چھڑ گئی جو بات (غزلیات، 1980ء) اور شفق رنگ آنسو (1981ء) شامل ہیں، ان میں سے بیشتر تصانیف کو ان کی ادبی اہمیت کے اعتراف میں اتر پردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی کی جانب سے انعامات سے نوازا گیا، اگرچہ ان کی بنیادی شناخت ایک غزل گو اور نظم نگار شاعر کی ہے، تاہم انہوں نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنی والہانہ عقیدت کا نہایت مؤثر اظہار کیا ہے۔