تمام
تعارف
مثنوی97
فارسی کلام39
رباعی7
ای-کتاب20
فارسی صوفی شاعری203
ملفوظ71
صوفی اقوال250
ویڈیو 25
بلاگ6
صوفیوں کی حکایتیں121
شعر1
گیلری 3
نعت و منقبت1
رومی کے صوفی اقوال
اپنے الفاظ کو اونچا کرو اپنی آواز کو نہیں، بارش سے پھول اگتے ہیں بجلی سے نہیں۔
تم زمین والوں پر مہربانی کرو، آسمان والا تم پر مہربان ہوگا تم بہادروں کے ہتھیار جسم پر سجا لو لیکن اگر تم ان کے اہل نہیں تو یہ تمہارے لیے مصیبت جان ہے۔
اگر تو غرور کو اپنے سر سے نہیں نکالے گا تو بعد میں آنے والے لوگ تیرے حال سے عبرت حاصل کریں گے۔
میرے دوست! صوفی تو موجود لمحے کا ہی دوست ہوتا، کل کی بات کرنا ہمارا طریق نہیں۔
حقیقت اور مجاز کا فرق تجھے اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے، جب سرمائے انسانیت تیری چشم بصیرت کو صاف کر چکا ہو۔
اپنے امتیاز اور انفرادیت کے شعلے سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی دانش مند کی زیارت کی جائے۔
اگر تیرے پاس ڈھال نہیں تو تلوار کے سامنے مت آ کیوں کہ تلوار اگر تیز ہو تو یہ کاٹنے سے نہیں شرماتی۔
عشق کے قتل گاہ میں بہترین لوگ ہی مارے جاتے ہیں کمزور نہیں، اس مرنے سے مت بھاگو جو شخص عشق کے لیے نہ مارا جائے وہ بس مردہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔
برائی دل کو تکلیف میں مبتلا کرتی ہے اور سچ سے فرحت بخش طمانیت حاصل ہوتی ہے۔
کھانے کے ایک لقمے میں ایک بال یا ریت کا ذرہ آ جائے تو پورا نوالہ پھینک دیا جاتا ہے پھر تمہاری روح کیسے آلودہ غذا برداشت کرسکتی ہے۔
جب آپ کوئی کام روح کی گہرائیوں سے کرتے ہیں تو آپ اپنے جسم و جاں میں لطف و انبساط کا ایک دریا رواں محسوس کرتے ہیں۔
جس طرح تارے ریت کی مانند بکھرے ہوئے ہیں ہم بھی اسی طرح گھومتے ہوئے نسیت سے وجود میں آئے ہیں۔
اے محبوبِ حقیقی! آپ کی محبت میں مجھ کو نعرۂ مستانہ بہت اچھا لگتا ہے، قیامت تک میں اسی دیوانگی اور وارفتگی کو محبوب رکھنا چاہتا ہوں۔
حلال لقمہ کے منہ میں آنے سے عبادت کا رجحان اور آخرت میں جانے کا پختہ یقین پیدا ہوتا ہے، ہم اندر کی موسیقی کو بہت کم سنتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی تھاپ پر رقصاں رہتے ہیں۔
درویشوں کے علاوہ دنیا کے باقی لوگ بچوں کی مانند ہیں جو دنیا کے کھیل میں مگن ہیں۔
اس سے زیادہ خوش قسمت کون ہو سکتا ہے جو ایک جھیل کنارے آتا ہے اور پانی میں چاند کا عکس دیکھ لیتا ہے۔
سبب بادشاہ کے سامنے ایک ادنیٰ افسر کی طرح ہوتا ہے جو اس کے سامنے آنے پر بے اختیار ہوکر چھپ جاتا ہے، سبب خدا کی جانب سے ایک سایہ ہے اور خدا ایک آفتاب۔
جب خدا ہماری مدد کرنا چاہتا ہے تو ہمیں انکساری کی طرف مائل کر دیتا ہے، محبت کی تلاش آپ کاہدف نہیں بلکہ آپ کا ہدف ان رکاوٹوں کو تلاش کرنا ہے جو آپ نے اس جذبے کے خلاف کھڑی کر لی ہیں۔
خاموشی خدا کی زبان ہے اور اس کے علاوہ سب کچھ ایک کمزور ترجمے کی حیثیت رکھتا ہے۔
شہوت کے سانپ کو ابتدا ہی میں مار ڈالو ورنہ تیرا یہ سانپ کسی دن اژدہا بن جائے گا۔
جب پیاس کے وقت آپ پیاس بجھانے کے لیے پیالے پر جھکتے ہیں تو اس میں خدا نظر آتا ہے لیکن جنہیں خدا سے محبت نہیں انہیں صرف اپنا ہی چہرہ نظر آتا ہے۔
دنیا حاصل کرنا کوئی برائی نہیں لیکن جب دنیا کو آخرت پر ترجیح دی جائے تو پھر سراسر خسارہ ہی ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere