Font by Mehr Nastaliq Web
Rumi's Photo'

رومی

1207 - 1273 | قونیہ, ترکی

مشہور فارسی شاعر، مثنوی معنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریزی کے مصنف، آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔

مشہور فارسی شاعر، مثنوی معنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریزی کے مصنف، آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔

رومی کے صوفی اقوال

3.5K
Favorite

باعتبار

تم زمین والوں پر مہربانی کرو، آسمان والا تم پر مہربان ہوگا تم بہادروں کے ہتھیار جسم پر سجا لو لیکن اگر تم ان کے اہل نہیں تو یہ تمہارے لیے مصیبت جان ہے۔

اگر تیرے پاس ڈھال نہیں تو تلوار کے سامنے مت آ کیوں کہ تلوار اگر تیز ہو تو یہ کاٹنے سے نہیں شرماتی۔

عشق کے قتل گاہ میں بہترین لوگ ہی مارے جاتے ہیں کمزور نہیں، اس مرنے سے مت بھاگو جو شخص عشق کے لیے نہ مارا جائے وہ بس مردہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔

برائی دل کو تکلیف میں مبتلا کرتی ہے اور سچ سے فرحت بخش طمانیت حاصل ہوتی ہے۔

محبت کے اظہار کے معاملے میں عقل کا کوئی زور نہیں۔

بھوکا شیر زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

صرف دل سے ہی تم آسمان کو چھو سکتے ہو۔

آنسوؤں میں چھپی مسکراہٹ تلاش کرو، کھنڈروں کے بیچ ہی خزانے ملتے ہیں۔

ایسے دکھو جیسے تم ہو یا ایسے رہو جیسے تم دیکھتے ہو۔

دانشمندوں کو قتل کر دیا جائے تو احمق ان کو بدل نہیں سکتا۔

اگر تو غرور کو اپنے سر سے نہیں نکالے گا تو بعد میں آنے والے لوگ تیرے حال سے عبرت حاصل کریں گے۔

طلب صادق ہو تو خدا کی مدد سے پہنچ جایا کرتی ہے۔

جب دروازہ کھلا ہوا ہے تو تم اس طرح قید خانے میں کیوں پڑے ہو۔

میرے دوست! صوفی تو موجود لمحے کا ہی دوست ہوتا، کل کی بات کرنا ہمارا طریق نہیں۔

حقیقت اور مجاز کا فرق تجھے اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے، جب سرمائے انسانیت تیری چشم بصیرت کو صاف کر چکا ہو۔

اپنے امتیاز اور انفرادیت کے شعلے سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی دانش مند کی زیارت کی جائے۔

درد کی دوا خود درد میں ہے۔

کھانے کے ایک لقمے میں ایک بال یا ریت کا ذرہ آ جائے تو پورا نوالہ پھینک دیا جاتا ہے پھر تمہاری روح کیسے آلودہ غذا برداشت کرسکتی ہے۔

خدا تعالیٰ کے لیے خدمت کر خلقت کے روز قبول سے تجھ کو کچھ نہیں ملے گا۔

جب آپ کوئی کام روح کی گہرائیوں سے کرتے ہیں تو آپ اپنے جسم و جاں میں لطف و انبساط کا ایک دریا رواں محسوس کرتے ہیں۔

اہلِ علم کا علم انہیں اٹھاتا ہے اور اہلِ تن کے علوم ان کے لیے بوجھ ہیں۔

جس طرح تارے ریت کی مانند بکھرے ہوئے ہیں ہم بھی اسی طرح گھومتے ہوئے نسیت سے وجود میں آئے ہیں۔

دوست وہ ہے جو ہمیں اس وقت پسند کرے جب تم کچھ بھی نہ ہو۔

شمع بننے کے دعوے سے پروانہ بن جانا زیادہ باعثِ افتخار ہے۔

اے محبوبِ حقیقی! آپ کی محبت میں مجھ کو نعرۂ مستانہ بہت اچھا لگتا ہے، قیامت تک میں اسی دیوانگی اور وارفتگی کو محبوب رکھنا چاہتا ہوں۔

حلال لقمہ کے منہ میں آنے سے عبادت کا رجحان اور آخرت میں جانے کا پختہ یقین پیدا ہوتا ہے، ہم اندر کی موسیقی کو بہت کم سنتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی تھاپ پر رقصاں رہتے ہیں۔

درویشوں کے علاوہ دنیا کے باقی لوگ بچوں کی مانند ہیں جو دنیا کے کھیل میں مگن ہیں۔

اگر ہماری جان یادِ خدا میں بیدار نہیں تو یہ بیداری ہمارے لیے قید خانہ ہے۔

بعض اوقات دوست دشمن اور دشمن، دوست بن جاتے ہیں۔

اس سے زیادہ خوش قسمت کون ہو سکتا ہے جو ایک جھیل کنارے آتا ہے اور پانی میں چاند کا عکس دیکھ لیتا ہے۔

سبب بادشاہ کے سامنے ایک ادنیٰ افسر کی طرح ہوتا ہے جو اس کے سامنے آنے پر بے اختیار ہوکر چھپ جاتا ہے، سبب خدا کی جانب سے ایک سایہ ہے اور خدا ایک آفتاب۔

دشمن ہمیشہ دماغ کے منتخب کرو اور دوست ہمیشہ کردار کے۔

دو قسم کے لوگ کبھی مطمئن نہیں ہوتے، دنیا چاہنے والا اور علم چاہنے والا۔

اپنے الفاظ کو اونچا کرو اپنی آواز کو نہیں، بارش سے پھول اگتے ہیں بجلی سے نہیں۔

زمین آسمان کے آگے سرنگوں ہے اور اس کی طرف سے جو کچھ آتا ہے قبول کرتی ہے، مجھے بتاؤ! کیا زمیں اسی طرح دینے کی وجہ سے بری ہے۔

وسوسوں سے پرہیز کرو کیوں کہ اس جنگل میں شیر ہیں۔

بہت سے لوگ آگ سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور انجام کار اس میں جا گرتے ہیں۔

وسوسے کی روئی کان سے باہر نکال تاکہ تیرے کانوں میں آسمانی آوازیں آنے لگیں۔

ہم پیاسا ہونے اور پانی کی پکار کی جانب بڑھنے سے اپنے آپ کو روک نہیں سکتے۔

اگر بیکار پتھر ہے تو کسی صاحبِ علم کے پاس جا گوہر بن جائے گا۔

میانہ روی یعنی درمیانی راہ ہی عقلمندی ہے۔

وفا ایک ایسا دریا ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا۔

ہستی کا آئینہ فنا ہے، فنا اختیار کر تاکہ تو ہستی کو دیکھ لے۔

جس خوبصورتی سے ہم پیار کرتے ہیں اس خوبصورتی کو اپنے عمل میں ڈھال لینا چاہیے۔

اپنے آپ خاموشی کے ساتھ اس بھر پورکشش کی جانب کھنچنے دو جس سے تم حقیقی پیار کرتے ہو۔

اچھابو لنے کے لیے پہلے اچھا سننا ضروری ہے، ایک انسان کو پہلے سننا چاہیے اور اسی سے بولنے کا فن سیکھنا چاہیے۔

خاموشی خدا کی زبان ہے اور باقی سب ایک خراب ترجمہ ہے۔

جو شخص رہ دکھانے والے کے بغیر سفر کرتا ہے وہ دو دن کے سفر میں دو سو سال لگا دیتا ہے۔

تم سائے کو متبادل جسم سمجھ لیتے ہو۔

اگر کوئی کام روح سے کیا جاتا ہے تو اس سے دل میں خوشی کی ایک ندی بہتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے