سامی جبل پوری کا تعارف
منشی مہادیو پرشاد جو ادبی دنیا میں سامی جبلپوری کے نام سے معروف ہیں ان کا تعلق جبل پور سے تھا، ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف حضرت رسول اللہ سے بے پناہ محبت، قلبی وابستگی اور والہانہ عقیدت تھا، جس کا پراثر اظہار ان کے نعتیہ کلام میں جابجا ملتا ہے، 8 فروری 1927ء کو بوقتِ مغرب ایک غیر معمولی فلکی منظر نمودار ہوا جس نے اہلِ ذوق اور اربابِ قلم کو گہرے طور پر متاثر کیا، متعدد شعرا نے اس واقعے کو اپنے اپنے انداز میں ذاتِ اقدسِ رسولِ اکرم سے منسوب کرتے ہوئے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا، سامی بھی اس روحانی کیفیت سے بے حد متاثر ہوئے اور اسی مناسبت سے متعدد نعتیہ تخلیقات قلم بند کیں، اس سلسلے میں ان کی پہلی طویل نظم "جذباتِ سامی" کے عنوان سے ہے جو 142 اشعار پر مشتمل ہے، دوسری نظم "سرورِ کائنات" کے نام سے معروف ہے جس میں 26 اشعار شامل ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے دو رباعیات اور فارسی زبان میں دو نعتیں بھی تخلیق کیں جو ان کے جذبۂ عشقِ رسول، روحانی وارفتگی اور والہانہ عقیدت کی آئینہ دار ہیں، ان کا نعتیہ سرمایہ اگرچہ مقدار میں زیادہ نہیں لیکن اپنے اخلاص، سوز اور معنوی اثر کے اعتبار سے نہایت اہم اور قابلِ قدر ہے۔