Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

صبا ماتھر جیپوری

1895 | جئے پور, بھارت

ممتاز اردو شاعر تھے، جنہوں نے فارسی و اردو کے علمی ماحول میں تربیت پائی، میر ضیا حسین ضیا سے تلمذ حاصل کیا اور نعتیہ شاعری میں بھی عقیدت و روحانی وابستگی کا اظہار کیا۔

ممتاز اردو شاعر تھے، جنہوں نے فارسی و اردو کے علمی ماحول میں تربیت پائی، میر ضیا حسین ضیا سے تلمذ حاصل کیا اور نعتیہ شاعری میں بھی عقیدت و روحانی وابستگی کا اظہار کیا۔

صبا ماتھر جیپوری کا تعارف

تخلص : 'صبا'

اصلی نام : چاند بہاری لال

پیدائش :جئے پور, راجستھان

چند بہاری لال صبا ماتھر جے پوری اردو ادب کے ان شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی و ادبی کاوشوں سے زبان و ادب کے سرمائے میں قابلِ قدر اضافہ کیا، وہ 25 دسمبر 1895ء کو جے پور میں پیدا ہوئے، نسب کے اعتبار سے کائستھ ماتھر تھے جبکہ ان کے اجداد کا اصلی وطن نارنول تھا، جہاں سے ان کے بزرگ تین پشت قبل جے پور منتقل ہوئے تھے، ان کے والد منشی گوبند نرائن فارسی زبان و ادب کے صاحبِ علم تھے، ان کی علمی و ادبی استعداد کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ ان کی فارسی تصنیف ’’انشائے گوبند نرائن‘‘ بھی زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکی تھی، صبا ماتھر جے پوری نے ابتدائی علمی و ادبی تربیت ایک ایسے ماحول میں پائی جہاں فارسی، اردو اور ہندوستانی تہذیب کے مختلف علمی سرچشمے باہم پیوست تھے، اردو کی تعلیم انہوں نے مولانا امیر علی سے اور ہندی کی تعلیم سوامی لکشمی نرائن شاستری  جبکہ انگریزی زبان کی تحصیل بابو سنجیون گنگولی سے کی، اس کثیرالجہتی تعلیمی پس منظر نے ان کے فکری شعور کو وسعت عطا کی اور ان کی شخصیت میں مشرقی علوم و ادبیات کے ساتھ جدید تعلیم کا امتزاج پیدا کیا، شعر و سخن سے ان کا باقاعدہ رشتہ جنوری 1914ء میں قائم ہوا، جب انہوں نے ایک مشاعرے میں پہلی مرتبہ اپنا کلام پیش کیا، ابتدا ہی میں انہوں نے میر ضیا حسین ضیا کی شاگردی اختیار کی جو مائل دہلوی کے تلامذہ میں شمار ہوتے تھے، ان کے شعری اثاثے میں نعتیہ شاعری بھی شامل ہے جو ان کے مذہبی احساس، عقیدت اور روحانی وابستگی کی آئینہ دار ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے