Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

صابر ابوہری

1919 | فرید آباد, بھارت

والہانہ عشقِ رسول کے ترجمان نعت گو شاعر تھے۔

والہانہ عشقِ رسول کے ترجمان نعت گو شاعر تھے۔

صابر ابوہری کا تعارف

تخلص : 'صابر'

اصلی نام : سردار آرام

پیدائش : 15 Sep 1919 | فیروز پور, پنجاب

صابر ابوہری جن کا اصل نام سردار آرام تھا، 15 ستمبر 1919ء کو دھرم پورہ، فیروزپور کے ایک معزز زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی، بعد ازاں لاہور میں اعلیٰ تعلیم جاری رکھی، جہاں منشی فاضل اور بی اے کی اسناد حاصل کیں، اس کے بعد دہلی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری امتیازی حیثیت کے ساتھ حاصل کی، تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ محکمۂ ڈاک و تار سے وابستہ ہوئے اور مختلف انتظامی ذمہ داریاں نہایت دیانت داری اور حسنِ کارکردگی کے ساتھ انجام دیں، 1977ء میں چیف سپرنٹنڈنٹ ٹیلی گراف، مغربی بنگال کے عہدے سے سبکدوش ہوئے، ریٹائرمنٹ کے بعد فرید آباد میں سکونت اختیار کی اور بقیہ زندگی علمی، ادبی اور تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف رہے، شاعری کا شوق انہیں کم عمری ہی سے تھا، تاہم باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز 1957ء میں نام دیو رشی پٹیالوی کے مشورے سے کیا، شعری تربیت کے لیے ابتدا میں نسیم نور محلی کی شاگردی اختیار کی اور بعد ازاں جوش ملسیانی سے بھی اصلاح لی، ان کا تعلق دبستانِ داغ سے تھا جس کی شائستگی اور کلاسیکی روایت ان کے کلام میں نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے، ان کی علمی دلچسپیاں نہایت وسیع تھیں، انہوں نے علامہ اقبال کی اسّی فارسی رباعیات اور ایک سو دس فارسی اشعار کا منظوم اردو ترجمہ کیا جو ان کی فارسی دانی اور شعری مہارت کا روشن ثبوت ہے، اردو کے علاوہ فارسی، ہندی، انگریزی، سنسکرت اور پنجابی زبانوں پر بھی انہیں نمایاں عبور حاصل تھا، مطالعے کے اعتبار سے اردو میں میر، غالب اور اصغر گونڈوی، فارسی میں سعدی، حافظ اور رومی جبکہ انگریزی ادب میں کیٹس اور ورڈزورتھ ان کے پسندیدہ شعرا تھے، ادبی و تنظیمی خدمات کے میدان میں بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا، وہ انجمن ترقیِ اردو (ہند) کے سکریٹری اور بعد ازاں صدر رہے، اس کے علاوہ پنجاب پردیش اردو ساہتیہ سنگم، دہلی کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں سرگرم حصہ لیتے رہے، ان کے دو شعری مجموعے "نوائے جنوں" (1978ء) اور "نوائے شوق" (1986ء) شائع ہوئے، نعت گوئی ان کی شعری شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ہے، انہوں نے بارگاہِ رسالت مآب میں نہایت اخلاص، محبت اور روحانی وارفتگی کے ساتھ نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جس سے ان کی گہری ایمانی وابستگی اور پاکیزہ احساسات کی ترجمانی ہوتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے