ساحر ہوشیار پوری کا تعارف
ساحر ہوشیارپوری جن کا اصل نام اوم پرکاش تھا، 10 فروری 1931ء کو ہوشیارپور کے ایک علمی اور باوقار خاندان میں پیدا ہوئے، ان کے والد لکھی رام اوہری اپنے عہد کی معتبر علمی و ادبی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، ابتدائی تعلیم انہوں نے ہوشیارپور اور لاہور میں حاصل کی، تقسیمِ ہند کے بعد کانپور میں سکونت اختیار کی، جہاں اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ شعر و ادب سے وابستگی کو بھی پوری دلجمعی کے ساتھ برقرار رکھا، شاعری کا ذوق زمانۂ طالب علمی ہی سے پیدا ہوگیا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید نکھرتا گیا، صحافت اور ادارت کے میدان میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں، کانپور سے ماہنامہ "چندن" جاری کیا جسے ادبی حلقوں میں اچھی پذیرائی حاصل ہوئی، اس سے قبل ہوشیارپور سے ماہنامہ "کیلاش" کی ادارت کی جبکہ 1950ء میں دہلی میں قیام کے دوران "ماہِ نو" کے اجرا کا بھی اہتمام کیا، شاعری میں انہیں جوش ملسیانی کی شاگردی کا شرف حاصل تھا اور وہ ان کے ارشد تلامذہ میں شمار کیے جاتے تھے، مختلف ادبی انجمنوں کے بانی، سرپرست اور فعال رکن کی حیثیت سے بھی انہوں نے اردو ادب کی خدمت کی، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کی گفتگو اور انٹرویوز اہلِ ذوق تک پہنچتے رہے، جس سے ان کی ادبی خدمات کا دائرہ مزید وسیع ہوا، ان کی متعدد تصانیف شائع ہوئیں اور اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں مختلف انعامات و اعزازات سے نوازا گیا، "ممتاز شاعر" کا خطاب بھی انہی خدمات کا اعتراف تھا، نعت گوئی ان کی شاعری کا ایک اہم پہلو ہے، انہوں نے محبتِ رسولِ اکرم اور جذبۂ عقیدت کو نہایت سادہ، مؤثر اور پُرسوز انداز میں اپنے کلام کا حصہ بنایا، 12 اگست 1994ء کو وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔