Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

ساحر ہوشیار پوری

1931 - 1994 | کانپور, بھارت

ممتاز شاعر و ادیب تھے جو جوشؔ ملسیانی کے شاگرد اور متعدد ادبی رسائل کے مدیر رہے، اور نعتیہ شاعری میں بھی عقیدتِ رسول کا والہانہ اظہار کیا۔

ممتاز شاعر و ادیب تھے جو جوشؔ ملسیانی کے شاگرد اور متعدد ادبی رسائل کے مدیر رہے، اور نعتیہ شاعری میں بھی عقیدتِ رسول کا والہانہ اظہار کیا۔

ساحر ہوشیار پوری کا تعارف

تخلص : 'ساحر'

اصلی نام : اوم پرکاش

پیدائش : 10 Feb 1931 | ہوشیار پور, پنجاب

وفات : 12 Aug 1994

اوم پرکاش جو دنیائے ادب میں ساحر ہوشیارپوری کے نام سے معروف ہوئے، 10 فروری 1913ء کو ہوشیارپور کے ایک ممتاز علمی و ادبی خانوادے میں پیدا ہوئے، ان کے والد لکھی رام اوہری اپنے عہد کی مدبر اور باوقار شخصیات میں شمار ہوتے تھے، اسی علمی و تہذیبی ماحول نے ساحر ہوشیارپوری کی شخصیت کی فکری و ادبی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا اور ان کے اندر شعر و ادب کا ذوق ابتداً ہی سے پروان چڑھنے لگا، انہوں نے ابتدائی تعلیم ہوشیارپور میں حاصل کی، بعد ازاں لاہور جا کر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، زمانۂ طالب علمی ہی سے شعر و سخن سے غیر معمولی شغف رکھتے تھے، تقسیمِ ہند کے بعد انہوں نے کانپور کو اپنا مسکن بنایا جہاں تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ رہنے کے باوجود ان کا ادبی سفر پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہا، ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے انہوں نے کانپور سے ماہنامہ "چندن" جاری کیا بعد ازاں "کیلاش" کی ادارت بھی انجام دی، 1950ء میں دہلی منتقل ہونے کے بعد انہوں نے ماہنامہ "ماہ نو" کا اجرا کیا، فنِ شاعری میں انہیں جوش ملسیانی سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا، ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات و انعامات سے نوازا گیا، انہیں "ممتاز الشعرا" کے خطاب سے بھی سرفراز کیا گیا، ان کی اہم تصانیف میں "مہاویر مہیما" (1939ء)، "سحرِ غزل" (1970ء)، "جل ترنگ" (1975ء) اور "سحرِ حروف" (1982ء) شامل ہیں، ساحر ہوشیارپوری نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنی عقیدتِ رسولِ اکرم کا نہایت والہانہ اظہار کیاہے، 12 اگست 1984ء کو یہ صاحبِ طرز شاعر اور ادیب دنیائے فانی سے رخصت ہوگیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے