ساحر سنامی کا تعارف
تیج ونت رائے ایک باوقار علمی و ادبی شخصیت تھے جن کا تعلق پنجاب کے سنگرور کے تاریخی قصبہ سنام سے تھا، وہ بھگوت رائے کے صاحبزادے تھے اور 1914ء میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں علم و ادب سے فطری شغف پایا جاتا تھا، ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ایم۔اے کی ڈگری سے سرفراز ہوئے، تعلیمی فراغت کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی اور بحیثیت تحصیل دار اپنی خدمات انجام دیں، فنِ شاعری میں انہیں جوشؔ ملسیانی سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا، ان کی تصانیف میں "تیر و نشتر"، "پیامِ وطن"، "بہارستان" اور "گلِ صدرنگ" خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں، شعر و ادب کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی انہیں نمایاں مقام حاصل تھا، وہ اپنے زمانے کے ممتاز انشا پرداز سمجھے جاتے تھے، ان کی ایک اہم علمی و ادبی خدمت "کلیاتِ برہمن کی تدوین و ترتیب بھی ہے، تیج ونت رائے نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنی والہانہ عقیدتِ رسولِ اکرم کا اظہار کیا ہے۔