شاد بدایونی کا تعارف
محمد صالح ولد کلیم الدین، محلہ سوتھا، بدایوں کے رہنے والے تھے اور خود کو پٹھان خاندان سے منسوب کرتے تھے، آپ کی ولادت اکتوبر 1927ء میں قصبہ ککرالہ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد تحصیل میں بحیثیت امین تقرر پایا، آپ کے والد تجارت پیشہ تھے اور ابتدا میں آپ نے بھی اسی پیشے سے وابستگی اختیار کی مگر سرکاری ملازمت اختیار کرنے کے بعد بدایوں منتقل ہوگئے اور محلہ سوتھا میں کرائے کے مکان میں سکونت اختیار کی، یوں آپ کی زندگی کا بڑا حصہ بدایوں ہی میں گزرا، جہاں آپ نے نہایت سادگی اور وقار کے ساتھ حیات بسر کی، روحانی اعتبار سے آپ سلسلۂ قادریہ سے وابستہ تھے اور مولانا عبدالقدیر قادری کے دستِ مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا، آپ کو اکابرِ سلسلۂ قادریہ خصوصاً شیخ عبدالقادر جیلانی سے گہری عقیدت تھی، جس کا عکس آپ کے کلام اور طرزِ زندگی دونوں میں نمایاں نظر آتا ہے، ادبی ذوق کے اعتبار سے آپ نعت و منقبت کے شاعر تھے، آپ کا مجموعۂ کلام "گنجینۂ نعت و مناقب" شائع ہوچکا ہے، جس میں عشقِ رسول اور اؤلیائے کرام سے والہانہ عقیدت کا خوبصورت اظہار ملتا ہے، آپ کے کلام میں سادگی، اخلاص اور روحانی تاثیر کی ایک دل نشیں کیفیت پائی جاتی ہے، 26 اپریل 1993ء کو آپ کا چراغِ حیات گل ہوا اور آپ درگاہ قادریہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے، یوں محمد صالح کی حیات ایک سادہ، دیندار اور روحانیت سے معمور زندگی کی آئینہ دار ہے جس میں علم، عقیدت اور خدمت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔