Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

شائق بدایونی

1839 - 1905 | بدایوں, بھارت

قانون، صحافت اور نعتیہ ادب کو یکجا کرنے والی ہمہ جہت شخصیت۔

قانون، صحافت اور نعتیہ ادب کو یکجا کرنے والی ہمہ جہت شخصیت۔

شائق بدایونی کا تعارف

تخلص : 'شائق'

اصلی نام : سدیدالدین

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : 27 Sep 1905 | اتر پردیش, بھارت

سدیدالدین بن صبیح الدین، بدایوں کے محلہ چاہ میر میں ایک معزز عباسی خاندان میں 1835ء کو پیدا ہوئے، یہ خاندان علم و فضل کے اعتبار سے ممتاز رہا، چنانچہ ان کے بزرگ قاضی عبدالسلام عباسی اپنے عہد کے جید عالم اور فارسی کے بلند پایہ شاعر تھے، جن کی زادِ آخرت (قرآنِ کریم کی منظوم اردو تفسیر) اور مثنوی طوفانِ عشق فارسی ادب میں یادگار حیثیت رکھتی ہیں، سدیدالدین خود بھی بدایوں کے ممتاز وکلا میں شمار ہوتے تھے، تاہم وکالت کی سند ضبط ہو جانے کے بعد انہوں نے مختلف قانونی موضوعات پر تصانیف مرتب کیں، 1892ء میں انہوں نے انتخابِ عالم کے نام سے ایک اخبار جاری کیا جو ان کی علمی و صحافتی بصیرت کا مظہر ہے، ادبی میدان میں انہیں افضل لکھنوی سے تلمذ حاصل تھا، وہ سلسلۂ قادریہ سے وابستہ تھے اور خانقاہ قادریہ، بدایوں کے اعراس میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہوئے نعت و مناقب کا نذرانہ پیش کرتے تھے، ان کی ایک مختصر شعری تصنیف نظمِ رعنا 1892ء میں مطبع نسیمِ سحر، بدایوں سے شائع ہوئی، سدیدالدین نے 27 ستمبر 1905ء کو وفات پائی، ان کی شخصیت علم، قانون، ادب اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے