Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

شباب للت

1933 | دہلی, بھارت

محبتِ رسول سے سرشار نعت گو شاعر تھے جنہوں نے عقیدتِ نبوی کو اپنے کلام کا حسن بنایا۔

محبتِ رسول سے سرشار نعت گو شاعر تھے جنہوں نے عقیدتِ نبوی کو اپنے کلام کا حسن بنایا۔

شباب للت کا تعارف

تخلص : 'شباب'

اصلی نام : بھگوان داس

پیدائش : 03 Aug 1933 | مظفر گڑھ, پنجاب

بھگوان داس جو ادبی دنیا میں شباب للت کے نام سے معروف ہیں، 3 اگست 1933ء کو خان گڑھ، مظفرگڑھ میں رام کرشن للت کے ایک خوشحال اور معزز خاندان میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے میں حاصل کی، جبکہ میٹرک کی تعلیم مظفرگڑھ میں مکمل کی، تقسیمِ ہند کے بعد نومبر 1947ء میں مشرقی پنجاب منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے علمی، ادبی اور صحافتی میدانوں میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا، اعلیٰ تعلیم کے دوران انہوں نے اردو اور تاریخ، دونوں مضامین میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں اور نمایاں علمی کارکردگی پر طلائی تمغوں (گولڈ میڈلز) سے بھی نوازے گئے، عملی زندگی کے آغاز میں کچھ عرصہ روزنامہ "ویر بھارت" میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، بعد ازاں روہتک سے شائع ہونے والے ماہنامہ "لہریں" کی ادارت سے وابستہ رہے، جبکہ بعد میں حکومتِ ہند کی وزارتِ اطلاعات و نشریات میں پبلسٹی آفیسر کے منصب پر خدمات انجام دیں، انہوں نے شعر گوئی کا آغاز 1941ء میں کیا جبکہ ان کی پہلی غزل 1946ء میں لاہور سے شائع ہونے والے ماہنامہ "جریدہ اوم" میں شائع ہوئی، اس کے بعد ان کا شعری سفر مسلسل ارتقا پذیر رہا اور متعدد اہم شعری مجموعے منظرِ عام پر آئے، اردو میں ان کی نمایاں تصانیف میں "مضراب" (1961ء)، "پروائی" (1963ء)، "پتوار" (1964ء)، "منزل منزل" (1970ء)، "صحرا کی پیاس" (1973ء)، "اڑان" (1976ء)، "دائروں کا سفر" (1980ء)، "زرد موسموں کا درد" (1983ء)، "سمندر پیاسا ہے" (1986ء) اور "آنچ برف زاروں کی" (1988ء) شامل ہیں، ان میں سے چھ مجموعوں کو مختلف ادبی اداروں نے انعامات و اعزازات سے نوازا، اردو کے علاوہ ہندی زبان میں بھی ان کی متعدد تصانیف شائع ہوئیں جو ان کی ہمہ جہت ادبی شخصیت کی غماز ہیں، شعری تربیت کے سلسلے میں انہوں نے منور لکھنوی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، جس کے نتیجے میں ان کے کلام میں فنی پختگی اور اسلوبی نکھار پیدا ہوا، شباب للت نے غزل کے ساتھ نعتیہ شاعری میں بھی اپنی فنی مہارت کا ثبوت دیا، ان کے نعتیہ کلام میں محبتِ رسولِ اکرم، اخلاصِ عقیدت، سادگیِ اظہار اور دل نشیں تاثیر نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے