شفاعت بدایونی کا تعارف
شیخ شفاعت اللہ حمیدی بن شیخ سخاوت اللہ حمیدی، بدایوں کے محلہ قاضی ٹولہ کے معزز باشندوں میں شمار ہوتے تھے، ان کے اسلاف میں ایک بزرگ شیخ سعادت اللہ ریاستِ رامپور میں مہتمم کے عہدے پر فائز رہے تھے جو اس خانوادے کی علمی و انتظامی حیثیت کا آئینہ دار ہے، شفاعت اللہ نے دینی و ادبی تربیت میاں جی عبدالملک انصاری بدایونی سے حاصل کی اور روحانی طور پر حضرت شاہ نصیرالدین حسین چشتی بریلوی کے مریدِ بااخلاص تھے، پیشہ کے اعتبار سے وہ وکیل تھے اور عدالتِ ججی، شاہجہاں پور میں وکالت سے وابستہ رہے، اس سلسلے میں انہیں بریلی اور مرادآباد میں بھی قیام کا موقع ملا، شاعری میں انہیں شیخ قربان علی خاں (خلفِ نواب ظہوراللہ خاں) سے تلمذ حاصل تھا، جس کے باعث ان کے کلام میں فنی پختگی اور شائستگی نمایاں ہے، انہوں نے شہیدی بریلوی کے دو قصیدوں کی تضمین بھی کی، جبکہ ان کی تصانیف میں دو مناجاتیں اور نعتیہ خمسہ قابلِ ذکر ہیں، شیخ شفاعت اللہ کا وصال 17 جمادی الثانی 1288ھ مطابق 3 ستمبر 1871ء کو ہوا۔