شاہ علم اللہ حسنی کے صوفی اقوال
طالبانِ حق کو چاہیے کہ تمام عمر اسی جد و جہد میں گزاریں کہ دل ما سوا اللہ سے خالی ہو، اگر اسی جہان میں یہ دولت مل جاتی ہے تو زہے سعادت اور اگر نہیں ملتی تو اسی طلب میں مردانہ وار جان دے دے، اس لیے کہ جو ان حجابات کے دور کرنے اور واصل حق ہونے میں جان دے گا، امید ہے کہ مرنے کے بعد یہ حجاب اس سے اٹھا لیا جائے گا اور عشق و محبت کی جو ترقی یہاں نہ ہوسکی تھی وہ شوق و طلب کی برکت سے وہاں حاصل ہو جائے گی۔
اے عزیزو! ہم میں ہر شخص کو اپنا ماتم کرنا چاہیے اور نظر ہر دم خدا کے فضل و کرم پر رکھنی چاہیے اور اپنے نفس کے بود و پندار سے باہر آنا چاہیے کہ خدا کے فضل کے بغیر سب ہیچ در ہیچ ہے۔
اے بھائیو! درویشوں کے اخلاق یہ تھے، ماتم تو ہم جیسوں کو کرنا چاہیے جو لباس درویشوں کا پہنتے ہیں اور کام سرکشوں اور فرعونوں کا کرتے ہیں اور غرورِ نفس کا شکار ہیں۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere