شاہ قمرالہدیٰ کا تعارف
تخلص : 'قمر'
اصلی نام : قمرالہدیٰ
وفات : 22 Jan 1966 | بہار, بھارت
رشتہ داروں : سید تاج الدین شاکر (والد)
مولانا شاہ قمرالہدیٰ قادری ابوالعلائی بہار کے ضلع شیخ پورہ کے ممتاز صوفی، عالم اور خانقاہ شاکریہ، پنڈ، شیخ پورہ کے سجادہ نشیں تھے، آپ اپنے والد حضرت شاہ تاج الدین شاکرؔ کے روحانی فیضان اور علمی ورثے کو مزید وسعت بخشی، آپ کی پیدائش 1300ھ میں پنڈ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد کی نگرانی میں حاصل کی، بعد ازاں پٹنہ اور دہلی میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی اور درسِ نظامیہ کی تکمیل کی، طویل روحانی تربیت کے بعد آپ کو بیعت، خلافت اور اجازت سے سرفراز کیا گیا اور 1340ھ میں اپنے والد کے وصال کے بعد مسندِ سجادگی پر فائز ہوئے، تقریباً نصف صدی تک آپ نے تعلیم و تربیت، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی رہنمائی کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے رکھا، آپ اپنے حسنِ اخلاق، سادگی، تواضع اور پیچیدہ دینی و روحانی مسائل کو نہایت آسان اور مدلل انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت کے باعث بہار کے مشائخ میں شمار کیے جاتے تھے، آپ کی خانقاہ سینکڑوں طالبانِ حق، مریدین اور عقیدت مندوں کے لیے مرکزِ رشد و ہدایت بنی رہی۔
آپ ایک صاحبِ قلم عالم بھی تھے، تصوف، عقائد اور اسلامی علوم پر آپ کی متعدد تصانیف آج بھی علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں، جیسے کشف القناع عن حکم السماع، لمعاتِ قمریہ، ضیائے قمر، انوارِ قمر، تجلیاتِ قمر، قمرالہدایہ، وجدِ قمر اور معمولاتِ قمر شامل ہیں، آپ کی تحریروں کی نمایاں خصوصیات سادہ اسلوب، مضبوط علمی استدلال، مستند حوالہ جات اور اہلِ سنت کے عقائد کی مدلل ترجمانی ہیں۔
آپ علم و عرفان، روحانیت اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج تھے، آپ کا فیضان آج بھی آپ کی تصانیف، تربیت یافتہ خلفا و مریدین اور خانقاہ شاکریہ کی زندہ روحانی روایت کے ذریعے جاری ہے، آپ کے وصال کے بعد آپ کے فرزند مولانا شاہ احسن الہدیٰ مسندِ سجادگی پر فائز ہوئے اور اس روحانی سلسلے کو آگے بڑھایا۔