شاہ رؤف احمد کا تعارف
شاہ رؤف احمد حضرت شاہ شعور احمد کے فرزند تھے، آپ کی ولادت 14 محرم 1201 ہجری کو رامپور میں ہوئی، آپ کے دادا نے آپ کا تاریخی نام رحمٰن بخش رکھا، نسباً آپ شیخ احمد سرہندی کی اولاد میں سے تھے، سرہند کی تباہی کے بعد آپ کا خاندان ہجرت کر کے رامپور میں آ بسا، جہاں آپ کی پرورش و نشوونما ہوئی، شاہ رؤف احمد اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں قادرالکلام شاعر تھے اور نثر نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے، شاعری میں انہوں نے قلندر بخش جرأت کی شاگردی اختیار کی اور فنِ عروض و قوافی میں ایسا کمال حاصل کیا کہ اپنے عہد میں بے مثال سمجھے جاتے تھے، آپ کی تصانیف کا دائرہ نہایت وسیع ہے، ان میں مثنوی یوسف و زلیخا، مثنوی اسرارِ غیب، رسالہ مراتب الوصول، دارالمعارف، معراج نامہ، تفسیر رؤفی، جواہر علویہ (فارسی)، صادقہ مصدقیہ (فارسی)، سلوک العارفین (فارسی)، شرابِ رحیق (فارسی) اور ارکان الاسلام جیسی اہم کتب شامل ہیں، جو ان کے علمی، ادبی اور روحانی مقام کی آئینہ دار ہیں، زندگی کے آخری ایام میں آپ بھوپال میں مقیم رہے، بعد ازاں حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے روانہ ہوئے مگر سفر کے دوران یلملم کے مقابل جہاز ہی میں آپ کا انتقال ہوگیا اور وہیں بیرِ علی یلملم میں مدفون ہوئے، انتخابِ یادگار کے مؤلف نے آپ کی تاریخِ وفات 25 ذوالقعدہ 1240 ہجری اور عمر 65 برس درج کی ہے، تاہم یہ روایت درست معلوم نہیں ہوتی، ناسخ کے اخذ کردہ مادۂ تاریخ کے مطابق آپ کی وفات کا سن 1249 ہجری قرار پاتا ہے جو قرینِ قیاس ہے۔