شاہ تقی ہمدمؔ کا تعارف
شاہ محمد تقی جن کا تخلص ہمدم تھا، برہان پور کے ایک ممتاز صوفی شاعر تھے، ان کی ولادت بھی اسی شہر میں ہوئی، وہ معروف مؤرخ مرزا حمد خافی خاں کے نواسے تھے اور ان کے جدِ امجد نواب آصف جاہ اول کے عہد میں منصبِ دیوان پر فائز رہے تھے، اس طرح علم و فضل انہیں خاندانی وراثت کے طور پر حاصل ہوا، بائیس برس کی عمر میں تعلیم سے فراغت کے بعد وہ حیدرآباد تشریف لے گئے، ان کی طبیعت ابتدا ہی سے فقر و درویشی کی طرف مائل تھی، چنانچہ انہوں نے شمس الدین الحسینی کے ہاتھ پر بیعت کی اور خلعتِ فقر سے سرفراز ہوئے، شاہ ہمدم کی نیک سیرتی اور حسنِ اخلاق سے متاثر ہوکر ان کے مرشد نے انہیں شرفِ دامادی سے بھی نوازا، کچھ عرصہ حیدرآباد میں قیام کے بعد وہ زیارتِ حرمینِ شریفین کے لیے روانہ ہوئے اور چار سال کے بعد واپس آئے، 1215ھ میں ان کا انتقال ہوا، شاہ ہمدم فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے، فنِ سخن میں انہوں نے حیدرآباد کے معروف شاعر محمد والہ سے اصلاح لی، جس سے ان کے کلام میں مزید پختگی اور نکھار پیدا ہوا۔