شاہین بدایونی کا تعارف
تخلص : 'شاہین'
اصلی نام : محمد علی خاں
پیدائش : 20 Nov 1912 | بدایوں, اتر پردیش
رشتہ داروں : علی حسین اشرفی (مرشد)
محمد علی خاں متخلص “شاہیں اشرف” ولد مولوی یعقوب علی، بدایوں کے محلہ قلعہ کٹھیرا کے رہنے والے اور نسباً روہیلہ پٹھان خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے اجداد قصبہ اوجھیانی میں آکر آباد ہوئے تھے مگر شاہیں اشرف نے بدایوں کو اپنا مستقل مسکن بنایا، آپ کی ولادت 20 نومبر 1912ء کو ہوئی، ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، جس نے آپ کے اندر دینی شعور اور علمی ذوق کو پروان چڑھایا، آپ شریعت و طریقت دونوں کے سخت پابند تھے اور روحانی وابستگی کے اعتبار سے حضرت شاہ علی حسین اشرفی کے دستِ حق پرست پر بیعت تھے، اس نسبت نے آپ کی شخصیت میں ایک خاص روحانی وقار اور استغراق پیدا کیا، ادبی میدان میں آپ نے اپنی تمام تر توجہ نعتیہ شاعری پر مرکوز رکھی، آپ کے کلام میں عشقِ رسول کی وارفتگی، سادگیِ بیان اور روحانی تاثیر نمایاں ہے، آپ کا نعتیہ مجموعہ "نوائے حرم" 1982ء میں شائع ہوا جو اہلِ ذوق میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، علاوہ ازیں آپ کی ایک طویل مثنوی "بہارِ سیرت" بھی منظرِ عام پر آئی، جس میں سیرتِ طیبہ کو شعری قالب میں نہایت دل نشیں انداز میں پیش کیا گیا ہے، عرفانی رنگ میں آپ کا مجموعہ "گلستانِ معرفت" 1995ء میں شائع ہوا، جو ان کے فکری و روحانی کمالات کا آئینہ دار ہے، اس کلام میں تصوف، عشقِ الٰہی اور باطنی واردات کی جھلک نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔