شاکر بریلوی کا تعارف
کالکا پرشاد مہروترا 1892ء میں بریلی کے ایک معزز کھتری خاندان میں منگل سین مہروترا کے گھر پیدا ہوئے، اردو ان کی مادری زبان تھی اسی لیے ابتدا ہی سے اس زبان و ادب سے گہری مناسبت پیدا ہوگئی، جوانی کے ایام میں وہ ادبی مجالس اور شعری محفلوں سے شغف رکھتے تھے، یہی ذوقِ ادب بتدریج ان کے اندر ایک سلیم الطبع شاعر کی حیثیت سے نشوونما پاتا گیا اور بالآخر ان کی طبیعت بھی شعر و سخن کے سانچے میں ڈھل گئی، شاعری میں مزید جلا اور فنی پختگی کے حصول کے لیے انہوں نے 11 اپریل 1935ء کو نوح ناروی سے سند شاگردی حاصل کی، فروری 1961ء میں اس دارِ فانی کو خیرباد کہا۔