Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

شمیم بدایونی

- 1943 | بدایوں, بھارت

تسلیم لکھنوی کی شعری روایت سے فیض یافتہ صاحبِ سلاست سخنور۔

تسلیم لکھنوی کی شعری روایت سے فیض یافتہ صاحبِ سلاست سخنور۔

شمیم بدایونی کا تعارف

تخلص : 'شمیم'

اصلی نام : رکن الدین

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

رشتہ داروں : منشی امیراللہ تسلیم (مرشد)

رکن الدین ولد غیاث الدین، عارف پور نوادہ کے معزز شیخ صدیقی زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت انیسویں صدی کے وسط میں ہوئی اور زمیندارانہ ماحول میں پرورش پائی، جس نے آپ کی شخصیت میں وقار، سنجیدگی اور متانت کو جلا بخشی، آپ ایک ذی علم اور صاحبِ نظر شاعر تھے جن کے کلام میں فکری پختگی اور جذبۂ صداقت نمایاں تھا، آپ کو امیراللہ تسلیم لکھنوی سے شرفِ تلمذ حاصل تھا، جس کے باعث آپ کی شاعری میں فنی صفائی اور اسلوبی نکھار پیدا ہوا، رکن الدین شمیم کو نعتیہ شاعری سے فطری مناسبت تھی، ان کے کلام میں عشقِ رسول کی وارفتگی اور عقیدت کی سوز بھری کیفیت نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے، انہوں نے جامی کے چند نعتیہ اشعار کی تضمین بھی کی، جو ان کے ادبی ذوق اور کلاسیکی روایت سے گہری وابستگی کی دلیل ہے، اگرچہ ان کا مکمل دیوان شائع نہ ہوسکا، تاہم ان کے کلام کا ایک منتخب گلدستہ "جذباتِ شمیم" کے نام سے 1938ء میں ہاشمی پریس، بدایوں سے طبع ہوا جو ان کی شعری صلاحیتوں کا نمائندہ نمونہ ہے، 1943ء میں تقریباً 75 برس کی عمر میں آپ نے وفات پائی اور اپنے پیچھے ایک ایسا ادبی سرمایہ چھوڑ گئے جو اگرچہ محدود صورت میں محفوظ ہے مگر اپنی تاثیر، سلاست اور فکری گہرائی کے باعث اردو نعتیہ شاعری میں ایک قابلِ قدر حیثیت رکھتا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے