Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

شمیم کرہلوی

1895 - 1954 | الہ آباد, بھارت

مین پوری کے شاعر اور وکیل تھے، جنہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، خصوصاً ہزل گوئی میں شہرت پائی اور ’’موجِ شمیم‘‘ کے نام سے مجموعۂ کلام یادگار چھوڑا۔

مین پوری کے شاعر اور وکیل تھے، جنہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، خصوصاً ہزل گوئی میں شہرت پائی اور ’’موجِ شمیم‘‘ کے نام سے مجموعۂ کلام یادگار چھوڑا۔

شمیم کرہلوی کا تعارف

تخلص : 'شمیم'

اصلی نام : دیا شنکر سکسینہ

پیدائش :مین پوری, اتر پردیش

وفات : اتر پردیش, بھارت

شمیم کرہلوی مین پوری کے ایک معزز اور صاحبِ حیثیت کائستھ زمیندار خاندان کے چشم و چراغ تھے، 1895ء میں قصبہ دھرمنگدپور میں بابو ہزاری لال کے گھر آنکھ کھولی، ان کے نانا بابو مکٹ بہاری لال جو خود علم و ادب کے قدر شناس اور شعر و سخن سے گہرا شغف رکھتے تھے انہوں نے ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی، یہی علمی و ادبی ماحول تھا جس نے شمیمؔ کے ذہن و مزاج کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا اور ان کے اندر پوشیدہ ذوقِ شعر کو بال و پر عطا کیے، 1925ء میں انہوں نے ہائی کورٹ الہ آباد سے فوجداری کے امتحانات کامیابی کے ساتھ پاس کیے اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے، ابتدا میں بھوگاؤں میں وکالت کی لیکن بعد ازاں اپنے خسر مہیشور سہائے کے مشورے اور اصرار پر تحصیل کربل منتقل ہوگئے جہاں 1954ء تک وکالت کے فرائض انجام دیتے رہے، شمیمؔ کرہلوی کے شعری مزاج کی آبیاری میں ان کے نانا کی تربیت اور صحبت کو خصوصی اہمیت حاصل تھی، ان کے نانا خود اچھے شعرا میں شمار ہوتے تھے، چنانچہ ان کے فیضِ صحبت اور ادبی تربیت نے شمیمؔ کے ذوقِ سخن کو جلا بخشی، انہوں نے سخن کی متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی اور اپنے تخلیقی امکانات کو کسی ایک صنف تک محدود نہیں رکھا، خصوصاً ہزل گوئی میں انہیں خاص شہرت حاصل ہوئی، ان کے کلام کا مجموعہ موجِ شمیم کے نام سے شائع ہوچکا ہے، زندگی کے تقریباً ساٹھ برس گزارنے کے بعد وہ جگر کے سرطان میں مبتلا ہوئے، مئی 1954ء میں الہ آباد میں عارضی قیام کے دوران اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے