Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

شرر بدایونی

1821 - 1885 | بدایوں, بھارت

نعت سے قلبی وابستگی رکھنے والے جلیل القدر عالم اور ادیب۔

نعت سے قلبی وابستگی رکھنے والے جلیل القدر عالم اور ادیب۔

شرر بدایونی کا تعارف

تخلص : 'شرر'

اصلی نام : علی بخش خان

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : 02 May 1885 | اتر پردیش, بھارت

علی بخش بن سلطان بخش، بدایوں کے محلہ سوتھا میں شیوخِ صدیقی کی شاخِ بخوش سے تعلق رکھتے تھے، ان کے نام کے ساتھ خاں کا اضافہ غالباً عہدِ انگریزی میں بطور خطاب شامل ہوا، آپ 1821ء میں اپنے آبائی مکان محلہ سوتھا ہی میں پیدا ہوئے، تعلیم و تربیت کے اعتبار سے آپ کو مولانا فیض احمد رسوا بدایونی کی شاگردی نصیب ہوئی، جبکہ روحانی طور پر مولانا عین الحق قادری بدایونی کے مریدِ بااخلاص تھے، علومِ نقلیہ و عقلیہ کے ساتھ ساتھ عربی و فارسی ادب میں بھی انہیں درجۂ کمال حاصل تھا، ادبی خدمات کے طور پر ان کی متعدد تصانیف شائع ہوئیں جن میں دیوانِ شرر، قاعدۃ التدریس، شہابِ ثاقب، تائید الاسلام، موید الاسلام، تنقیح المسائل اور برقِ خاطف خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، انہیں نعت گوئی اور سماعتِ نعت سے خاص شغف تھا، آپ کا وصال 17 رجب 1302ھ مطابق 2 مئی 1885ء کو ہوا، اور درگاہ قادریہ، بدایوں میں اپنے پیر کے مزار کے زیرِ سایہ مدفون ہوئے، آپ کی شخصیت علم، تصوف اور ادب کا ایک درخشاں نمونہ تھی۔

موضوعات

Recitation

بولیے