شیخ امان اللہ حسینی کا تعارف
شیخ امان اللہ حسینی غالباً 1740ء سے 1785ء کے درمیانی عرصے میں گلبرگہ سے بھوپال منتقل ہوئے، ان کی تصانیف میں سے صرف دو کتب کا سراغ ملتا ہے، پہلی کتاب رقعاتِ امان اللہ ہے جو فارسی زبان میں ہے، اس کا ایک قلمی نسخہ حیدرآباد میں محفوظ ہے، جبکہ دوسرا نسخہ بھوپال میں پایا جاتا ہے، اس کے علاوہ ان کی دو بیاضیں بھی دستیاب ہیں، پہلی بیاض کے اختتام پر 1152ھ اور دوسری کے اختتام پر 1200ھ درج ہے، پہلی بیاض میں فارسی رقعات، ہندی دوہے، فارسی اشعار اور دکنی زبان کا کلام شامل ہے، دوسری بیاض میں ولی کے عہد کی اردو میں کہی گئی غزلیں، مسدس نما نظمیں، مخمس، مستزاد، مختصر مرثیے اور ناصحانہ و صوفیانہ مثنویاہیں، ان مثنویوں کے عنوانات میں وجود نامہ، شہادت نامہ، نعمتِ رسول، علمِ توحید، قیامت نامہ، بہشت و دوزخ، صفات نامہ اور جوگی نامہ قابلِ ذکر ہیں، امان اللہ حسینی کے کلام میں مذہبی اور روحانی رنگ نمایاں طور پر غالب ہے، ان کی شاعری کا بڑا حصہ ناصحانہ اور صوفیانہ مضامین پر مشتمل ہے، جس میں اصلاحِ نفس، معرفتِ الٰہی اور اخلاقی تربیت کے عناصر بھرپور انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔