شیخ سیف اللہ ثاقبؔ کا تعارف
شیخ سیف اللہ خلف شیخ کفایت اللہ بریلوی ایک صاحبِ علم، باصلاحیت اور نہایت قابل شخصیت تھے، آپ نے ریاستِ رامپور میں ایک عرصہ قیام کیا اور اپنے علمی و ادبی کمالات کے باعث اہلِ علم میں ممتاز مقام حاصل کیا، خصوصاً علمِ ریاضیات میں آپ کو ایسا درجہ حاصل تھا کہ آپ کا کوئی ثانی نہ سمجھا جاتا تھا، طبیعت میں فطری طور پر آزادگی اور فقر کا رجحان غالب تھا، جو آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، آپ فارسی زبان میں شعر کہتے تھے، ایک موقع پر آپ نے نظیر خاں شاد کے سامنے یہ مطلع پڑھا
یار را از من خیالِ دیگر است
بر لبم ہر لحظہ قالِ دیگر است
نظیر خاں شاد نے اس پر فرمایا کہ اس مطلع میں اصلاح کی گنجائش ہے، چنانچہ انہوں نے شیخ سیف اللہ کو اپنے استاد کریم الدین آرزو کے پاس لے جا کر اصلاح کی درخواست کی، جب یہ مطلع آرزو کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے فی الفور اس کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا كہ
یار را از من خیالِ دیگر است
گر چہ جانِ من بحالِ دیگر است
یہ اصلاح شیخ سیف اللہ کو نہایت پسند آئی، چنانچہ وہ آرزو کے شاگرد ہو گئے اور ایک سال تک ان کی خدمت میں رہ کر سخن کی مشق کرتے رہے، اس دوران انہوں نے علمِ عروض اور قوافی میں غیر معمولی مہارت حاصل کی، آپ نواب نصراللہ خاں کے عہد میں حیات رہے اور تراب شاہ تراب کے معاصرین میں شمار ہوتے ہیں، 1226ھ میں آپ کا انتقال ہوا، آپ کی تصانیف میں ’’بنات النعش‘‘ کے نام سے ایک مثنوی قابلِ ذکر ہے جو آپ کے ادبی ذوق اور فنی مہارت کی آئینہ دار ہے۔