شیخ شرف الدین یحییٰ منیری
دوہا 4
رباعی 1
صوفیوں کے مکتوب 100
صوفی اقوال 22
ایمان کی سچائی خدا کو بڑا سمجھنے میں ہے اور خدا کی بڑائی کے احساس سے خدا سے شرم پیدا ہوتی ہے، اس شرم سے باطن اور ظاہر کی تعظم پیدا ہوتی ہے، اس کے بعد سالک کا شاہد خدا ہو جاتا ہے اور وہ اس کو مختلف صورتوں میں مشاہدہ کرتا ہے، جن کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں مثلا وہ خدا کے غنا کے کمال کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے دل سے ساری طمع جاتی رہتی ہے اور خدا کی قدرت کا مشاہدہ کرتا ہے تو پھر اس کے سوا کسی اور سے اس کو انس پیدا نہیں ہوتا، وہ خدا کے فضل کا مشاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنے افعال اور احوال سے بے نیاز ہوتا ہے وہ خدا کے کرم کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کو خدا سے ایسا انبساط حاصل ہوتا ہے کہ کون و مکاں اسی کے حاجت مند ہو جاتے ہیں، خدا کے قہر کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس پر خدا کا خوف ایسا طاری رہتا ہے کہ اس کو کبھی آرام نہیں ملتا۔
The sign of sincere disciple would be that he chooses what is not easy, what is little known, the life of solitude, the occupation of a dervish, and takes pride in these things! The Lord of Universe (PBUH) despite having attained highest exalted rank and degree, besought the Lord of Glory saying: “O God. grant us poverty in both life and death, and on the Day of Resurrection, raise us up in the condition of the poor.”
The sign of sincere disciple would be that he chooses what is not easy, what is little known, the life of solitude, the occupation of a dervish, and takes pride in these things! The Lord of Universe (PBUH) despite having attained highest exalted rank and degree, besought the Lord of Glory saying: “O God. grant us poverty in both life and death, and on the Day of Resurrection, raise us up in the condition of the poor.”